بلتستان ریجن کے چاروں اضلاع میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق 997 مقامات پر مکمل بین المسالک ہم آہنگی کے ساتھ مجالس حسینؑ برپا ہورہے ہیں۔

سکردو( تحریر نیوز) خطہ بلتستان زمانہ قدیم سے مذہبی اور تہذیبی روایات کا مرکز رہا ہے،یہاں کے عوام ایام آیمہ طاہرین کیلئے سال بھر تیاری کرتے ہیں، پرانے زمانے میں مجالس اور محافل کیلئے خصوصی طور پر خانقاہ بنائے جاتے تھے لیکن موجودہ دور میں ذکر سید شہداء کیلئے عوام امام بارگاہوں کو بڑی تزئین آزائش کے ساتھ بناتے ہیں اور مساجد کو صرف نماز کی ادائیگی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ بلتستان ریجن میں اہل تشیع کی اکثریت کے ساتھ امامیہ نوربخشی شیعہ،صوفیہ نوربخشی شعیہ اور عقیدہ اہل حدیث پر یقین رکھنے والے لوگ آباد ہیں مگر یہاں بین المسالک ہم آہنگی دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔ بدقسمتی پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور دہشت گردی نے یقینا یہاں کے عوام میں کچھ حد تک بے چینی ضرور پایا جاتا ہے لیکن علمائے کرام کی کوششوں سے اس فتنے کو پروان چھڑنے نہیں دیا جارہا ہے۔ جماعت اہلحدیث کے عوام اور اکابرین بھی دیگر تینوں مسالک کے ساتھ  رسول خدا(ص) کو اپنے نواسے اور اہلبیتؑ کا پرسہ دیتے ہیں۔ سرکاری اعداد شمار کے مطابق بلتستان بھر میں کل 997 مقامات پر مجالس حسینؑ بھرپا کیا جارہا ہے،لیکن غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق 1000 سے ذیادہ مقامات پر مجالس بھرپا کئے جاتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc