ایک طرف معیار تعلیم کو بہتر کرنے کا دعویٰ دوسری طرف کامیابی کی شرح انتہائی شرمناک ، محکمہ تعلیم کو دعوں کو دنیا سے نکل کر عملی میدان میں کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

گلگت( تحریر نیوز) قراقرم انٹرنیشل یونیورسٹی نے ایف ایس سی کا رزلت جاری کردیا جس کے مطابق 5736اسٹوڈنٹس میں سے صرف 1635 کامیاب ہوئے جو کہ 28.50فیصد بتایا جارہا ہے۔ یہ خبر یقیناًانتہائی قابل افسوس اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ محکمہ تعلیم میں اصلاح لانے کیلئے وزیر تعلیم کی کوشش اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعلیم نے نام پر کرپشن اقرباء پروری آج بھی پچھلے دور کی طرح جاری وساری ہیں لیکن معیار تعلیم پر توجہ دینے والا کوئی نہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہا تو بعید نہیں کہ گلگت بلتستان میں سرکاری تعلیمی اداروں کا میعار مزید بدتر ہوجائے اور لوگ ایک بار پھر فاصلاتی نظام تعلیم کی طرف توجہ دینا شروع کریں کیونکہ اُس میں کچھ پڑھے بغیر بھی اچھی ڈگری مل جاتی ہے ۔ اس وقت گلگت بلتستان کے ذیادہ تر سرکاری اسکولوں میں فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت نوکریاں حاصل کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جنکے پاس تجربہ اور قابلیت نہ ہونے کے باوجودصرف فاصلاتی نظام تعلیم کی ڈگریوں کے بل بوتے پر ہیڈماسٹر پرنسپل وغیرہ کے عہدوں پر فائز ہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ اس گھمبیر صورت حال کی باریک بینی سے جائزہ لیں کیونکہ گلگت بلتستان میں جہاں ایک طرف نظام تعلیم درست نہ ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دینے کی غرض سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں وہیں جو لوگ شہروں سے اچھی تعلیم حاصل کرکے یہاں آنے کے بعد میرٹ کی بنیاد پر نوکریوں کا حصول ایک چیلنج سے کم نہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc