ڈسٹرک ہیڈکوارٹر کھرمنگ کے تنازعے کو مزید خراب کرنے اور خالصہ سرکار کی حکومتی تعریف کی حمایت میں مہدی آباد میں منبر رسول کا استعمال۔سوشل میڈیا پر ہنگامہ

کھرمنگ( نامہ نگار) ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر کھرمنگ کا مسلہ دن بدن گھمبیر صورت اختیار کی جاری ہے کھرمنگ کو ضلع کے درجہ حاصل ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے گوہری سے ملحق میدان جو قانونی طور مادھوپور اور گوہری کے درمیان متازع اور گوہری والے اس میدان پر گزشتہ دہائیوں سے قابض ہیں، کو ضلعی ہیڈکوارٹر کیلئے باقاعدہ نوٹفیکشن جاری ہواتھا۔نوٹفیکشن پر عمائدین گوہری نے علاقے کی وسیع تر مفاد میں کسی قسم کی مخالفت کئے بغیر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا جس پر سیاسی اور مذہبی رہنماوں نے عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ لیکن جیسے ہی نوٹفیکشن جاری ہوا علاقائی سیاست میں گرما گرمی پیدا ہوگئی ہر علاقے کے ذمہ داران اس کوشش میں لگ گئے کہ ضلعی ہیڈکوارٹر اپنے ہی گاوں میں لے جائےجائیں۔ دوسری طرف گوہری کے عوام کو یہ کہہ کر اُکسایا کہ یہ جگہ خالصہ نے نام سے سرکاری کاغذات میں اندارج ہیں اور آپ لوگوں کو معاوضہ ملنے کے کوئی امکان نہیں لہذا اپنی زمینوں کو بچائیں۔ مہدی آباد اور طولتی والے چونکہ پورے کھرمنگ میں سیاسی اور سرکاری طور پر اثررسوخ والے مانے جاتے ہیں اُنہوں نے بھی اس معاملے کو خراب کرنے کیلئے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا لیکن طولتی میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوئے اور مہدی آباد والوں نے مفت زمین دینے کا اعلان کیا ۔ اُن کے اس اعلان سے بلتستان میں خالصہ زمینوں کی غلط تشریح کرکے عوامی املاک پر قبضہ کرنے والوں کو موقع ملا اور اُس جگے کو ایک اہم سرکاری ادارے نے بغیر کسی معاوضے کے قبضے میں لے لیا اور مہدی آباد والے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ آج ایک بار پھر جب بلتستان کے عوام خالصہ سرکار کی تعریف کیلئے حکومت پر دباو ڈال رہے ہیں وہیں مہدی آباد کے پالیسی سازوں نے امام جمہ الجماعت کو مجبور کرکے ڈسٹرک ہیڈکوارٹر کیلئے مفت زمین دینے کا اعلان کروایا۔ اس اعلان نے نہ صرف پورے بلتستان کی سطح پر جاری خالصہ سرکار کی تعریف تحریک متاثر ہوسکتا ہے بلکہ مسقبل قریب میں بلتستان کے عوام کو اپنے ہی زمینوں نے ہاتھ دھونا پڑے گا جس کا شائد انہیں ادارک نہیں۔
کہا یہ جارہا ہے کہ امام جمعہ الجماعت مہدی آباد کو ماضی میں بھی سیاسی اختلافات کی وجہ سے مہدی آباد کے عوام نے نہ صرف سوشل بایئکاٹ کی تھی بلکہ اُنہیں مہدی آباد میں چلنا پھر بھی مشکل کیا تھا اور وہ کئی سالوں تک وہ اپنے گھر میں محصور ہوکر رہ گئے تھے ۔ ابھی بھی ایسا لگتا ہے کہ اُنہیں مہدی آباد کے فیصلہ سازوں نے اس قسم کے غیر سنجیدہ عوام دشمن بیانات کیلئے منبر رسول استعال کرنے پر مجبور کیا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc