بلتستان کی سیاحت دوراہے پر۔۔

میرے محترم قارئین کے گوش گزار کرانا چاہتا ہوں کہ خطہ بلتستان تاریخی،جغرافیائی،دفاعی اور سیاحتی اعتبار سے پوری دنیا میں مشہور ہے، راقم کا تعلق بھی بلتستان سے ہے۔اس خوبصورت خطے کو اللّٰہ تعالٰی نے اپنی تمام نعمتوں سے نوازا ہے کسی چیز کی کمی نہیں ، اگر کمی ہے تو چاہنے والے لیڈرز کی،اچھے اور با شعور سیاستدان کی، باقی اللّٰہ نے اپنی تمام نعمتوں کی انبار لگا دی ہے،لوگ قدر نہیں کرتے یا لوگوں کو ان نعمتوں کو استعمال کرنا نہیں آتے یہ الگ بات۔کچھ دنوں پہلے میرے نظروں سے کچھ پوسٹ گزرے اور یہ خبر مقامی اخبارات کی شہ سُرخی بھی بنی کہ ہمارے معزز ارکان اسمبلی ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوے، جن میں دو کا تعلق بلتستان سے تھا،یہ شرم کی بات ہے کہ اسمبلی مچھلی بازار بنے،مگر جس بات پر اُن کے درمیاں اختلافات نے جنم لیا وہ سُن کر میں دنگ رہ گیا،میں نے سوچا شاید یہ جھوٹی خبر ہے مگر کچھ اور دوستوں کے پوسٹ دیکھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا بات میں وزن ہے۔ سُننے میں آیا گلگت ریجن میں کسی جگہ ایک بورڈ آویزاں ہے جس پہ لکھا ہوا ہے بلتستان اور استور کی طرف سیاح جانے سے گُریز کریں کیونکہ وہاں کے راستے خراب ہیں اس لئیے سیاح ہنزہ کی طرف رُخ کریں۔ سننے میں یہ آیا ہے کہ یہ بورڈ ہمارے گورنر کی شریک حیات صاحبہ کی حکم پر آویزاں کیا ہے،اور ان دونوں رہنماؤں کا تعلق ضلع ہنزہ سے ہے،۔ میرا گلگت اور ہنزہ والوں سے کوئی دُشمنی نہیں میں گلگت ریجن کو بھی اپنا گھر سمجھتا ہوں ،اور ہنزہ سے تعلق رکھنے والے میرے بہت دوست احباب ہیں ،اُن کی محبت،دوستی اور بھائی چارگی میرے لئے کسی انمول تحفے سے کم نہیں،کبھی ہم نے گلگت بلتستان کو الگ نہیں سمجھا اور نہ ہی کسی ایک ضلع کو پورا صوبہ سمجھا ہے، مگر یہ بورڈ کس ایما پر آویزاں کیا ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔جس نے بھی یہ بورڈ آویزاں کی ہے وہ چھوٹی زہنیت کے مالک ہیں،ان کو زہنی علاج کی بہت ضرورت ہے، پچھلے کچھ سالوں میں بلتستان ریجن اور استور میں سیاحوں کے ہجوم اُمڈ آئے ہیں اور ہماری معیشت کا دارومدار سیاحت سے وابستہ ہے،کچھ لوگوں کو یہ بھی ہضم نہیں ہوتی،ایسے لوگوں کیلئے میں دعا ہی کر سکتا ہوں۔ ایک اور بات گوش گزار کرانا چاہتا ہوں کہ بلتستان کی طرف سیاحوں کا رُخ زیادہ ہے تو اس کی بھی وجہ ہے،اور وجہ یہ ہے کہ ہنزہ سے زیادہ بلتستان اور استور سائیڈ سیاحوں کیلئے زیادہ محسور کُن لگتا ہے۔ دُنیا کے خوبصورت علاقوں میں پہلے نمبر پر شنگریلا سکردو (بلتستان پاکستان کے بیس خوبصورت آبشاروں میں گلگت بلتستان کے تین آبشاریں بھی شامل، منٹھوکھا،فرافو،چھوتوک تینوں آبشاریں بلتستان میں واقع ہیں۔دُنیا کی بلند تریں محاذ جنگ سیاچن ،بلتستان دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بلتستان، دُنیا کی چھت کہنے والی دیوسائی کا میدان بلتستان اور استور کے سنگم میں واقع ہے۔ پاکستان کا سب سے پُر امن ضلع گنگچھے (بلتستان قلعوں کا بادشاہ کہنے والی کھرفوچو (بلتستان ) پاکستان کو سیراب کرنے والی دریائے سندھ کی شروعات بلتستان سے۔دُنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں پہلے نمبر پر آنے والی جھیل اپر کچورا لیک جسے مقامی زبان میں (فروق ژھو) کہتے ہیں (بلتستان) دُنیا کی بہترین اور سب سے نایاب معدنیات بلتستان میں پائے جاتے ہیں۔ دُنیا کی دس سے زائد بڑے گلیشئیرز بلتستان میں ہیں۔اگر آپ بلتستان کی تاریخ پڑھیں تو ایسی تاریخ دُنیا کی کسی اور قوم کی نہیں ملے گی جو بلتستان کی ہے۔
تاریخ،تہذیب و تمدن،دفاعی،جغرافیائی،رہن سہن،زبان ہر اعتبار سے بلتستان پوری دُنیا میں مشہور ہے اور پاکستان میں اوّل نمبر پر۔
ہنزہ کے التت اور بلتت فورٹ کس نے بنائی؟؟ اور یہ نام کیسے پڑی ؟؟ زرا تاریخ سے آشنا ہو تو پتہ چلے گا۔
پھر کس طرح سیاح نہیں آئیں گے؟۔یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے لوگ بورڈ نہیں دیکھتے اُن کو ہر راستے اور علاقے کا علم ہوتا ہے،سیاح آنے سے پہلے تمام راستوں اور علاقوں کے بارے انفارمیشن لے کر آتے ہیں۔ وہ دور گزر گیا جب ہر گلی کے بعد اگلی گلی کا راستہ پوچھتے تھے۔ میری گُزارش ہے اس طرح کے نازیبا حرکات سے عوام کے دلوں میں نفرت نہ پیدا کریں،آپ ایک ضلع اور علاقے کو اپنا سمجھنے کی بجائے پورے صوبے کو اپنا گھر سمجھیں،صرف ہنزہ گلگت بلتستان نہیں ہے یہ بھی سوچیں اور بھی نو اضلاع ہے گلگت بلتستان میں ان کے بارے میں بھی سوچیں۔
جناب عزت ماآب گورنر صاحب آپ صرف ہنزہ کے نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کے گورنر ہیں۔اپنے گھر میں چراغ جلا کے روشن رکھیں اور محلے کو اندھیرے میں رکھیں؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ آپ پورے گلگت بلتستان کیلئے کچھ کریں،پورے صوبے کو روشن کریں۔
تمام سیاحوں کو گلگت بلتستان میں خوش آمدید کہتا ہوں اور عوام سے گُزارش ہے یہ سیاح ہمارے لئیے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی جتنی ہو سکے مدد کریں،قارون کا خزانہ سمجھ کر لوٹنے سے باز رہیں یہ آپ کی ثقافت کے شایانِ شان نہیں۔
اپنی ثقافت کو اُجاگر کریں۔۔۔
فیصل آکاش

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc