وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کو عہدے سے ہٹانے کیلئے پارٹی کے اندر لابنگ کی کہانی حقیقت وہ نہیں جو کہا جارہا ہے۔

گلگت( نامہ نگار) وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ بلتستان سے تعلق رکھنے والے کچھ اراکین قانون ساز اسبملی اُنہیں عہدے سے ہٹانے کیلئے لابنگ میں مصروف ہیں جس میں اسپیکر حاجی فدا محمد ناشاد اور میجر امین کا نام سرفہرست لیا جارہا ہے۔ لیکن حقائق اسکے برخلاف ہیں کیونکہ جن افراد کا نام لیا جارہا ہے وہ اس جماعت کے نظریاتی نہیں بلکل وقتی ممبر ہیں جو کل کسی اور پارٹی میں بھی شامل ہوسکتا ہے خاص طور پر اسپیکر کا مسلہ کبھی بھی گڈ گورننس نہیں بلکہ وہ بھی میر غضنفر کی طرح عہدے پر ہی نظر رکھتے ہیں ۔ لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ فدا محمد ناشاد ایسا کرسکتا ہے اُنہوں نے نجی محافل میں وزیر اعلیٰ کے حوالے سے اپنے خدشات کا ضرور اظہار کیا ہے لیکن کبھی اسبملی کے فلور پر حفیظ الرحمن کی کارکردگی شخصی فیصلوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ یہی صورت حال میجر امین کا بھی ہے وہ کسی بھی صورت میں اپنے مراعات کو کھونا نہیں چاہتے کیونکہ اُنکے پاس جو بھی مراعات ہیں وہ حفیظ الرحمن کی مرہون منت ہیں، اکبر تابان پارٹی کا نظریاتی کارکن ہے اور حفیظ الرحمن سے اُنہیں کوئی شکوہ نہیں کیونکہ انکا مسلہ بھی عوام سے ذیادہ عہدہ اور ٹھیکوں کی بندربانٹ ہے لہذا یہ قیاس بھی درست نہیں۔ اقبال حسن کے گردن پر آج بھی سیکس اسکینڈل سوار ہیں اور دیگر ممبران سیاسی طور پر کمزور ہیں اُنکی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔لیکن حفیظ الرحمن کیلئے میر فیملی سیاسی حوالے سے بہت بڑی رسک ہے کیونکہ پہلے بھی عہدوں اور ٹکٹ کے حوالے سے فیصلوں میں میر فیملی نے حفیظ الرحمن سے مشاورت کے بجائے سیاسی اثر رسوخ کے ذریعے تین اہم عہدوں کو اپنے گھر لے گئے ہیں، رانی عتیقہ کی شروع دن خواہش ہے کہ میر سلیم کسی بھی طرح گلگت بلتستان کا وزیر اعلیٰ بن جائے لیکن اُنکی نااہلی کے فیصلے نے حفیظ الرحمن کی پریشانیوں کو کچھ کم کیا ہے۔ ورنہ میر غضنفر کی گورنر شب سے لیکر میر سلیم کی ٹکٹ تک کے معاملے میں حفیظ الرحمن کو فیصلوں میں شامل نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف ممبر قانون ساز اسمبلی کپٹن شفیع خان بھی اس حوالے سے سرگرم نظر آتا ہے لیکن اُنکے پارٹی میں اُنکی کوئی شنوائی نہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc