نامکمل سوچیں ۔تحریر : حمایت حسین خیال

ہم ذرا سی باتوں سے بہل جاتے ہیں. ہماری سوچیں بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان گھری ہوئی ہیں. ہم قومیت اور لسانیت کے علاوہ مسلک کے لبادے اوڑھ چکے ہیں. ہم ہر اس چیز کے پیچھے بھاگ جاتے ہیں جو حقیر ہے، حقیقت سے دور ہے. یہ چیزیں ہمیں مزید پست کئے دیتی ہیں. مکمل ضابطے کے تحت مسلکی انتشار پھیلا جا رہا تو کہیں لسانی اور علاقائی بحث و مباحثے کر کے الجھایا جا رہا. ان تمام سازشوں کے پیچھے ہماری کوتاہی، کم علمی اور جہالت ہے. اگر ہم ماضی قریب میں منعقد ہونے والی الیکشن کو دیکھنے اور پرکھنے لگ جائیں تو ہمیں بہت کچھ معلوم ہو جائے گا. مثلا وہ تمام تنظیمیں جو الیکشن سے قبل کلعدم تھیں وہ الیکشن کے دنوں پاک ہو گئیں. نتیجاً جہاں پہلے مسلکی سرد جنگ شروع تھی وہاں مسلک کے اندر نئی بحث شروع ہو گئی…… ہم قومیت، لسانیت اور مذہبیب کے نام پہ بہت آسان سے تقسیم ہو جاتے ہیں. یہ لوگ قطعاً نہ ہمارے وفادار ہیں نہ ان کو علاقے کی ترقی سے کوئی واسطہ ہے. ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ ہم اس بات سے بے خبر ہیں کہ کس قدر مہلک ہتھیاروں سے لیس مختلف نظریات کے حامل ممالک کے درمیان گھرے ہوئے ہیں. جو تہذیب و تمدن، تاریخ، اور مختلف نظریہ کے قائل ہیں. ان کا خدا جدا جدا اور عبادت کے طور طریقے جدا جدا ہیں. ہم اس قدر جاہل ہیں کہ کوئی بھی نیرونی اشارہ ہمیں سڑکوں تک لئے آتا ہے. ہم کسی وجہ کو ڈھونڈنے سے قبل ہی انسٹال کئے ہوئے نعروں سے سوتی آلودہ گی پیدا کئے دیتے ہیں. حکومت ایران اور بادشاہت سعودیہ کی محبت ہمیں ذلیل و خوار کر دے گئی. میرا کسی بھی ملک سے کوئی اختلاف نہیں. ہاں جو جابر ہے ، جو وہ ظالم ہے، وہ میرا حامی و ناصر نہیں ہو سکتا. ان دونوں ممالک کی خارجی اور داخلی پالیسیوں پہ ، میں اپنے ملک و قوم کو قربان نہیں کر سکتا. اسی طرح ہم یو ایس ایڈ فنڈز کو سمیٹنے کے لئے کسی بھی لائن کے آخر میں کھڑے رہ کر اپنے ماضی پر غور کرنے کے بجائے صف اول تک پہنچ جاتے ہیں. یو ایسڈ ایڈ سے ملنے والے کوٹ کو زیب تن کئے، مردہ باد امریکہ کی ریلی میں شرکت کرتے ہیں. اور نعرہ بازی کے بڑھ چڑھ حصہ لیتے ہیں.
چین ، روس اور امریکہ مختلف نظریوں کے حامل ممالک ہیں. امریکی امداد ملنے پر ہم نے روس کو ٹوٹنے پر مجبور کر دیا اور گرم پانی تک رسائی کو ناممکن بنا دیا. اب چین کی امداد ملنے پر ہم دنیا کی کسی بھی طاقت و قوت سے لڑنے کے لئے تیار ہیں. امریکی، چینی اور روسی دوستی و دشمنی حیران کن معمہ بن چکی ہیں. اور یقیناً چین اپنے مفاد کو پانے کے بعد ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دے گا. خیر سپر پاور کے ساتھ ہمارا کیا مقابلہ. ہم تو گھر اور محلے پہ شروع ہونی والی لڑائیوں کو ختم نہیں کر سکے.

الیکشن کے دنوں پہاڑوں پہ منڈالنے والے ابر بغیر کسی بارش برسائے گزر گے. ان کی موجودگی میں خطہ بے آئین میں شدید طوفان اور آندھی کے کئی مناظر دیکھے گئے. بجلیاں کڑکتی رہیں، بادل گرجتے رہیے. ہم پر امید تھے کہ ابر رحمت برسے گی. لیکن .. نقصان اب تک بھگت رہے ہیں. میں اور میری پوری قوم باتوں سے بہل جاتے ہیں. شاید مستقبل میں ایسا نہ ہو۔۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc