کریس گانچھے کے عوام اکیسویں صدی میں بھی بجلی کے سہولیات سے محروم،کریس بجلی گھر فیز ٹو کاتعمیراتی کام تین سالوں سے تاخیر کا شکار۔

گانچھے(پ،ر) حکومتی ذرائع کے مطابق ضلع گانچھے کے وادی کریس میں شدید لوڈشیڈنگ کے باوجود عوام میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے بجلی گھر کی تعمیر تاخیر کے شکار ہیں، عوام نے اس حوالے سے افہمام تفہیم سے کام نہیں لیا تو پروجیکٹ منسوخ ہو سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بجلی گھر کے لیے جو جگہ مختص کیا گیا تھا وہ جگہ کچھ لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ برقیات گلگت بلتستان کے اعلی حکام نے مخالفت کرنے والوں کی خدشات دور کرنے کا وعدہ بھی کیا انہوں نے متاثرین کے مطالبات جتنا ممکن ہو سکے حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر پورے کریس کے مفاد سے وابستہ اس پروجیکٹ کو بھی کچھ نام نہاد کرتا دھرتاؤں نے اپنے انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے اور جو لوگ اس پروجیکٹ کی مخالفت کر رہے ہیں ان میں چند مفاد پرست اور انا پرست ٹولے ہیں وہ سب سرکاری ملازم ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ کریس بجلی گھر کے منصوبے کو واپس نہیں جانا چاہئے بلکہ گورنمنٹ اس پروجیکٹ کو بائی فورس بھی لگانا چاہئے کیونکہ یہ چند مفاد پرست ٹولے کی بات نہیں یہ پورے کریس کے باشندوں کے مفاد کا منصوبہ ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc