محرم الحرام کے حوالے سے ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان کا ایک اور متنازعہ بیان سامنے آگیا، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اُنکا یہ رویہ گلگت بلتستان کے مفاد میں نہیں۔

گلگت(نامہ نگار) گلگت میں محرم الحرام میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے حوالے سے لوکل انتظامیہ اور تمام مسالک کے علمائے کرام کے ساتھ میٹنگ میں جعفراللہ خان نے ایک مرتبہ پھر روائتی جارحانہ اندازہ اپناتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں سی پیک کو خراب کرنے کیلئے سازشیں کر رہی ہیں اور ہم سازشوں کو گلگت میں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ یاد رہے اس پہلے بھی رکن قانون ساز اسمبلی محمد شفیع خان نے اُن کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ اُنہوں نے پچھلے سال یوم حسینؑ کیلئے پرمیشن دینے کی صورت میں طالبان کو دعوت دینے کی بات کی تھی۔ اس سال آغا راحت الحسینی نے انتظامیہ سے مرکزی جلوس کیلئے روڈ تبدیل کرنے مطالبہ کیا ہوا ہے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اُن کے اس بیان کو دیکھا جائے کو محرم الحرام کیلئے نئے روٹ کا مطالبہ بھی سی پیک کے خلاف سازش لگتا ہے۔ جبکہ  سی پیک میں گلگت بلتستان کیلئے کوئی پراجیکٹ نہیں جس کی اُنہیں کوئی فکر نہیں ہے۔

گلگت بلتستان کے حکمرانوں کی اس قسم کے غیر جمہوری اور معاشرتی روئے دراصل گلگت بلتستان میں مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔لہذا حکمران طبقے کو چاہئے کہ ایک مسلکی مسلے کو سی پیک سے جوڑنا دراصل معاملات کو بگاڑ کر حالت خراب کرنے کی سازش ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc