گلگت بلتستان میں سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ چار ارب روپے کا بجٹ،خوبصورت عمارتیں ،بہترین اور ماہر اساتذہ اور تمام سرکاری اداروں کی نسبت سب سے زیادہ ملازمین ملازمین کی تعداد لیکن اس تمام کے باوجود ہم عوام کااعتماد سرکاری سکولوں پر قائم نہیں کر سکے۔ سیکڑیٹری ایجوکیشن ثنااللہ خان اور دیگر کا نگر میں عوامی اجتماع سے خطاب۔

نگر ( اقبال راجوا) گلگت بلتستان میں سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ چار ارب روپے کا بجٹ،خوبصورت عمارتیں ،بہترین اور ماہر اساتذہ اور تمام سرکاری اداروں کی نسبت سب سے زیادہ ملازمین ملازمین کی تعداد لیکن اس تمام کے باوجود ہم عوام کااعتماد سرکاری سکولوں پر قائم نہیں کر سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم سب سے پہلے ضلع نگر سے ہر سکول کے ڈی ڈی اوز کے پاس انتظامی کمیٹی قائم کریں جو ادارے کے مالیاتی اخراجات کاحساب کتاب رکھنے کے ساتھ اساتذہ کی کارکردگی کا بھی جائذہ لے گی۔ اس کمیٹی میں علاقے کے عمائدین علم دوست افراد اور سماجی خدمات گاروں پر مشتمل افراد ہونگے جو اساتذہ اور سکول کی مجموعی کارکردگی کی بہتری کے لئے پورے اختیارات کے ساتھ کام کریں گے۔ انہوں نے اساتذہ سے سوال پوچھا کہ آخر وجہ کیا ہے کہ سرکاری سکولوں پر عوام اعتماد کیوں نہیں کرتے،ضلع نگر میں سیکڑیٹری ایجوکیشن ثناؤاللہ خان کا عوامی انداز میں خطاب ۔ نگر غلمت میں ایجوکیشنل کانفرنس سے ممبر اسمبلی جاوید حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضمنی ایلکشن جیتنے کے بعد قوم کو اس مختصر دورانئیے میں ہر قیمت پر نگر کے دونوں حلقوں میں خواتین اور مرد کالجز کی تعمیر کے لئے کوشش کر رہا ہوں انہوں نے کہاکہ شہید زوالفقار علی بھٹو نے ہنزہ نگر اور ہنزہ کی عوام کو آزادی دلا کر یہاں کی عوام الناس کو علم کی طرف راغب کیا۔ ہنزہ میں تعلیم پر بہت کام ہوا لیکن نگر میں بہت آہستہ تعلیم پر کام شروع کیا گیا۔ انہوں نے سرکاری نظام تعلیم کے حوالے سے کہا کہ صوبائی کومت عوام کو صحت اور تعلیم اور کے سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرے۔ ضلع نگر کے تمام سرکاری سکولوں کے پی سی فورمنظور کئے جائیں اور اساتذہ کی تمام خالی اسامیوں کو پر کئے جائیں۔ پرائمری سطح پر کم از کم 8 اساتذہ تعینات ہونا چاہیئے۔ممبر اسمبلی حاجی رضوان علی نے سکولوں میں اساتذہ کی کار کردگی بارے میں کہا کہ بچے کی تربیت ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے جو سولہ سال میں مکمل ہو جاتا ہے۔ سکول اساتذہ بچوں کی ای سی ڈی کلاسوں سے تربیت کا آغاز کیا جائے ،عوام کو یہ پریشانی ہو رہی ہے کہ پرائیویٹ اور سرکاری دونوں نظام تعلیم ایک دوسرے کے متصادم ہیں آخر وہ کس کا انتخاب کریں ۔ طبقاتی نظام تعلیم کاخاتمہ کیا جائے ۔طبقْاتی نظام تعلیم نے غریبوں کا استحصال کیا ہے۔پرائیوٹ سکولوں کو ریگولیٹ کیا جائے۔ایک کمیٹی تشکیل دی جائے پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں کی نگرانی کر سکے۔ انہوں نے سیکریٹی ایجوکیشن اور ڈائیریکٹر ایجو کیشن کی توجہ مرکوز کراتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کے رویئے پربھر پور توجہ دی جائے اور ان کو بچوں کے والدین کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔ میں اور ممبر اسمبلی جاویدحسین اسمبلی فلور پر ضلع نگر میں قراقرم یونیورسیٹی کیمپس کے لئے جدو جہد کریں گے۔ کانفرنس سے ضلع نگر سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے مشہور و معروف سائنسدان ڈاکٹر محمداسمائیل نے کہا کہ ہمیں معاشرے کی بہتری کے کام کے لئے سوشل سائینس کی تعلیم حاصل کرنا چاہیئے ۔ ہم تعلیم صرف نوکری کے حصول کی خاطر کر رہے ہیں جو کہ تعلیم کے ساتھ زیادتی ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے اساتذہ کو اپنے سے افضل سمجھیں تب ہمیں کامیابی مل سکتی ہے۔ ہمیں اب اداراوں کے قیام کے لئے کام کرنا چاہیئے اور تینیکی تعلیم کی طرف رغبت دلانا ہو گی۔ سوشل سائنس سے انسانی زہن میں تبدیلی آجاتی ہے۔ ایجوکیشنل کانفرنس سے ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی دلدارحسین،سابق ڈی ڈی سید مظفرحسین،اکرم علی،قربان علی منتظر سینئیرصحافی اور اکادمی ادبیات پاکستان کے کو آرڈینیٹر گلگت بلتستان اکبرحسین اکبر و دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرکاری سکولوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ سکولوں میں اساتذہ کی کارکر دگی بہتر بنایا جائے اور سب سے پہلے ان کے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی ،اساتذہ کو اداروں کے سربراہان اور عوام کے سامنے جواب دہ بنانا ہوگا۔ کانفرنس کے آخر میں اچی کارکردگی دکھانے والے اساتذہ اور پوزیشن ہولڈر طالبات میں شیلڈز اور نقد انعامات بی تقسیم کئے گئے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc