سیاسی پختگی ناگزیر ہے۔ تحریر فیض اللہ فراق

گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ عین اسی طرح ارتقائی منازل طے کررہی ہے جس طرح ہمارے علاقے کے دوسرے شعبے کررہے ہیں ۔جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق ہمارا سماجی ڈھانچہ پختگی اور بلوغت کا سفر طے کررہا ہے ۔قومیں ترتیب پانے میں وقت لگتا ہے اور بہتر معاشرے کی تشکیل میں بھی ٹائم فریم اولین حثیت رکھتی ہے ۔امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک کو ترقی کرنے میں بھی سینکڑوں سال کا سیاسی سفر طے کرنا پڑا ہے ۔چند برسوں یا عشروں میں معاشرتی انفراسٹریکچراور ریوں میں مکمل تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔گلگت بلتستان کا اہم سیاسی دور 1947سے شروع ہوتا ہے جب انقلاب گلگت کے بعد گلگت دنیا کے نقشے پر آزاد ریاست کی حثیت سے قائم ہوا اور چند دن بعد غیر مشروط الحاق پاکستان ہوا ،یہ وہ زمانہ تھا کہ گلگت بلتستان کی مقامی سیاسی ریاستی قیادت نے ایک نائب تحصیلدار کو ہار پہنا کر گلگت کی سرزمین پر خوش آمدید کرتے ہوئے اپنا حکمران تسلیم کیا جبکہ اُس زمانے میں برصغیر کے کسی بھی کونے میں اس طرز کی حکمرانی مقامی آبادی کو ذہنی طور پر قبول نہیں تھی ۔گلگت بلتستان کا سیاسی و حکمرانی کا سفر تحصیلدار سردار عالم سے شروع ہوتا ہے اور آج صوبائی طرز کے نظام حکومت تک پہنچ جاتا ہے جس کے پس منظر میں ایک طویل اصلاحاتی جدو جہد اور ارتقائی ابواب ہیں جس کا ایک ایک ورق ہمارے اجتماعی رویوں اور ناپختہ سیاسی رجحانات سے بھرا پڑا ہے ۔قومیں بننے کیلئے 70سال کافی نہیں ہوتے اور نہ بہترنظام حکومت کی تشکیل آلہ دین کا چراغ ہے ۔جس طرح زندگی آہستہ آہستہ اپنے دائرے میں سفر کرتی ہے اس طرح زندگی سے وابستہ چیزیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ پختگی کا سفر طے کرتی ہیں ،چاہے وہ نظام حکومت ہو یا سیاست ،صحافت ہو یا ثقافت یہ تمام شعبے وقت گزرنے کے ساتھ جدیدیت کو بھی اپنا لیتے ہیں اور نئی چیزیں زندگی کا جز بن جاتی ہیں ۔گلگت بلتستان کے 70سالہ سیاسی جدو جہدمیں کئی نشیب و فرازآئے ایک زمانہ ایسا تھا جب مقامی چند نمبرداروں کے چناو سے ایک ڈپٹی کمشنر پوری قوم پر حکمرانی کرتا تھا لیکن وقت گزرتا گیا سسٹم میں پختگی آتی گئی ایک دور ایسا بھی آیا کہ عوامی ووٹوں سے نمائندوں کا انتخاب ہوا اور مقامی نمائندوں کیلئے ایک اسمبلی بھی بنائی گئی جس کے بعد 2009 میں اُس زمانے کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایک صدارتی آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کو خارجی طور پر صوبے کا درجہ دیا اور پہلی بار مقامی وزیر اعلی جیسے منصب کا حق عوام کو دیا گیا یہ قدم گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اور سنگ میل کی حثیت رکھتا ہے ،یہ ہماری قومی تاریخ کا ایک ایسا موڑ تھا جس میں پہلی بار گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت کو قومی سطح پر سامنے لایا گیا حالانکہ سچی بات تو یہ ہے کہ من الحیث القوم ہمارے اجتماعی رویے اس قدر نہیں تھے کہ ہم اس نظام کے ثمرات سے عوام کو جوڑ سکے اور ایسا ہی ہوا کہ 2009سے 2015تک کا سیاسی نظام نمائندوں کی کرتوتوں کی وجہ سے عوام کیلئے عذاب بن گیا ،حالانکہ گورننس آرڈر2009 برائے گلگت بلتستان وہ آئین ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ مرکزی لیڈر شپ وفاق اور گلگت بلتستان کے مابین رابطوں کی کھڑکی کھل گئی تھی جس کی وجہ سے صوبائی و وفاقی قیادت کے مابین براہ راست رابطہ ممکن ہوا تھا ۔اس نظام کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ صوبے کے چار اہم شعبوں معدنیات ،سیاحت،جنگلات اور ہائیڈروکے تمام اختیارات وفاق کے حوالہ کیئے گئے تھے جن پر صوبے کو قانون سازی کا اختیار نہیں تھا جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان کی معیشت میں مذکورہ چاروں شعبے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں ۔گلگت بلتستان کا سیاسی ارتقا اسی طرح جاری رہا ہے اور سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک اور آئینی اصلاحاتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان تشکیل دے دی گئی اس کمیٹی میں پہلی بار گلگت بلتستان کی نمائندگی بھی رکھی گئی اور وزیر اعلی گلگت بلتستان اس کمیٹی کا ممبر ہے ۔ماضی میں گلگت بلتستان کیلئے جو بھی سیاسی اصلاحات کا نفاظ ہوا اُن میں کبھی بھی گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں رکھی گئی اور نہ ہی گلگت بلتستان کے لوگوں سے پوچھا گیا ،سرتاج عزیز کی سربراہی میں تشکیل پانے والی اولین کمیٹی ختم ہوگئی جبکہ دوبارہ موصوف کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی کمیٹی اپنی سفارشات مکمل کرکے وزیر اعظم کو بھیج چکی ہے اُمید یہ ہے کہ کمیٹی کی کوکھ سے حوصلہ آفز اسیاسی اصلاحات کا ظہور ہوگا اور پہلے سے بہتر کی گنجائش سامنے آئیگی ۔میرے خیال میں یہ کمیٹی چار اہم شعبوں کو گلگت بلتستان کونسل سے اُٹھاکر صوبے کے حوالہ کرے گی ،کونسل کی حثیت کم ہوجائیگی اور آٹھارویں ترمیم کا جزوی اطلاق گلگت بلتستان میں بھی کردے گی جس سے گلگت بلتستان اسمبلی مزید بااختیار ہوگی ایسا بھی ہوا تو خطے کی سیاسی تاریخ میں اہم قدم اور ارتقائی سفر کا ایک اور موڑ باآسانی طے ہوگا ۔بنیادی طور پر سیاسی پختگی بہتر اور مستحکم نظام کی علامت سمجھی جاتی ہے اگر قومی رویے پختہ ہوں تو اچھے باشعور اور باصلاحیت قومی قیادت سامنے آجاتی ہے جو اپنی کوشیشوں سے بہتر سیاسی ،سماجی اور معاشی نظام ترتیب دینے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔گلگت بلتستان کی سیاست میں سیاسی پختگی ناگزیر ہے کیونکہ ہم آج تک نابالغ سیاسی رجحانات کی وجہ سے اجتماعی سوچ کے بجائے زاتی ،مسلکی اور لسانی ایجنڈے کی تکمیل میں پیش پیش ہیں ،جبکہ اچھائی کی تعریف اور برائی کی مذمت کے اخلاقی جرات کا جواز بھی کھو چکے ہیں ۔بدقسمتی سے ہم تنقید برائے تنقید و مخصوص عینکوں سے دیکھنے کے طرز عمل کو اپنا چکے ہیں یہ غلطی کسی حد تک تو ہماری ہے کیونکہ انفرادی سطح پر آج تک ہم نے خود کو ٹھیک کرنے کی کوشیش نہیں کی ،مگر زیادہ تر غلطی ہمارے ارتقائی سیاسی سفر کا ہے اور ہمارا سفر ایک نائب تحصیلدارکی قبولیت سے شروع ہوتی ہے اب پختگی کیلئے مزید وقت درکار ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc