کھرمنگ ہیڈکوارٹر ایشو۔ تحریر : میثم اینگوتی

نوزائیدہ اور پسماندہ ضلع کھرمنگ ایک خودساختہ بحران کاشکار ہے اور وہ بحران ہے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کا تعین نہ ہونا۔ ضلع کے قیام سے پہلے سب ڈویژن کا ہیڈکوارٹر طولتی رہاہے جبکہ ضلع کے قیام کے بعد تمام محکمے منقسم ومنتشر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ضلع کے قیام کے بعدکونسی جگہ ضلعی ہیڈکوارٹرکے لئے موزوں اور سب کے لئے قابل قبول ہوگی ؟ طولتی بہترسمجھ لیجئے لیکن مہدی آباد تا ہلال آباد لوگ سراپااحتجاج ہونگے۔ مہدی آباد ناممکن کیونکہ محاذ ایریے کے لوگ اس پر احتجاج کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ طولتی ہویا مہدی آباد دونوں میں مناسب اور ضرورت کے مطابق درکار وسیع اراضی بھی موجود نہیں ہے۔ اگر دستیاب ہوئی تو اس کیس کا تیسرا فریق سرکار سوچنے پر مجبور ہوگا کہ معاوضہ جات کی خطیر رقم کیسے پیداکریں۔ مختصر یہ کہ موزونیت ان دونوں مقامات پر موجودنہیں ہے۔ سرکار کی اپنی سہولت اور طرفین کے لئے مناسب اور قابل قبول جگہ گہوری تھنگ ہے۔ جہاں تمام ضلعی محکموں کے دفاتر ایک ہی جگہ بنائے جاسکتے ہیں اور عوام کامفاد بھی اسی میں ہے۔ گہوری تھنگ کا معاملہ ایک پرانا اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ سادات گہوری اور مادھوپور کے عوام کے درمیان اس کی ملکیت کے بارے میں کئی فسادات رونما ہوچکے ہیں اور عدالتوں میں بھی یہ معاملہ چلتارہا۔ عدالتی فیصلے میں اس قطعہ اراضی کو خالصہ سرکار قراردیاگیا اور دونوں فریق ہاتھ ملتے رہ گئے۔
خالصہ سرکارکیاہے ؟ کسے کہاجاتاہے ؟ کیا خالصہ سرکار عوامی زمینوں پر قبضہ کرنے کا نام ہے؟ یہ ظلم کب سے ہو رہاہے ؟ اور کس نے کیا ہے؟ ان سوالات کا جواب ہمیں تاریخی تناظر میں ملےگا۔
آزادی سے پہلے گلگت بلتستان میں ڈوگروں کی حکومت تھی اور ڈوگرہ سکھ تھے ان کی حکومت ایک وقت پنجاب میں بھی تھی اورہماری تاریخ میں ہمیں یہ باتیں نہیں بتائی جاتی۔ سکھوں کی اس حکومت کو خالصہ سرکار کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ اس دور حکومت میں بلتستان سمیت گلگت بلتستان کے کئی اضلاع کو بندوبستی علاقے قرار دیے گئے۔ ان بندوبستی علاقں کی تمام بنجرزمینوں کو سرکار کی ملکیت قراردی گئی اور جہاں بھی ضرورت پڑی اس پر حکومت نے قبضہ کیا اوراپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ 1948 کا معرکہ پیش آیا ہمارے آباء واجداد نے لاٹھیوں اورکلہاڑیوں کے زریعے ڈوگروں کو بھگاتو دیا لیکن بغیر کسی شرط وشروط اور اپنی حثیت کے تعین کے اپنی آزادی کو پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔ مال مفت دل بے رحم کی مانند یہاں کوئی اصطلاحات ہوئی اور نہ شناخت ملی۔ خالصہ سرکار کاوہی قانون لاگو رہا اور ہمیں اب تک کئی ایسی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ گورنمنٹ نے ہمارے بنجر میدانوں میں ضرورت کے مطابق تصرفات کئے اور کوئی معاوضہ نہیں دیاگیا۔ یہ ہے وہ تلخ حقیقت جس کا ہمیں سامناہے۔
کھرمنگ ہیڈکوارٹر کے لئے گہوری تھنگ کا نوٹیفیکشن بھی جاری ہوچکاہے۔ لیکن طرفین اپنے چند محدود علاقائی مفادات کے حصول کے لئے برسرپیکارہوکر اس معاملے کو طول دے رہے ہیں جو کہ غیر دانشمندانہ عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت طولتی اور مہدی آباد میں نچلےدرجے کی چند نوکریوں کے حصول کے لئے رسہ کشی جاری ہے۔ اس کے علاوہ یہ کوئی بڑا ایشو نہیں ہے۔ ہاں سادات گہوری کی مخالفت اور ان کے مطالبات کو سنجیدہ لینا ہوگا۔ اس حوالے سے سادات گہوری، سیاسی قیادتیں، علماء اور سرکردگان کو بھرپور کرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔
لیکن یہ کیا ہے کہ اس معاملے کو لے کر سوشل میڈیا میں طوفان بدتمیزی برپا کی جائے۔ اسے سیاسی، لسانی، علاقائی اور مذہبی رنگ دیاجائے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کھرمنگ ہیڈکوارٹر کے ایشو کو غیرضروری پر غلط اور گمراہ کن طریقے سے پیش کیا جانے لگا ہے اور اسے حسینیت اور یزیدیت کی جنگ قرار دیاجانے لگا ہے۔ کسی نے علاقے کے نمائندے پر غصہ نکالاتو کوئی عمامہ پوش کہہ کر علماء کے پیچھے پڑگیا۔ اس رویے نے بہت دکھ پہنچایا۔ میری تمام سوشل ایکٹوسٹ سے گذارش ہے کہ اس معاملے کو مسئلہ کشمیر نہ بنائے بلکہ بہتر حکمت عملی اور فہم وفراست کے ساتھ اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی جائے۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری علاقے سے نمائندہ صوبائی وزیر اطلاعات و منصوبہ بندی اقبال حسن کی ہے کہ وہ تمام ممکنہ اقدامات اٹھاکر اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں۔ اس کے ساتھ میری دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین، علماء وسادات کرام اور کھرمنگ کے غیور عوام سے گذارش ہے کہ اس معاملے پر جلدازجلد کوئی متفقہ رائے پیش کی جائے اور معاملے کو طول نہ دیں ورنہ فائدہ کسی کا نہیں ہوگا جبکہ نقصان سب کاہوگا۔ آپ کو معلوم ہوناچاہئے کہ شگر میں ضلعی سیٹ اپ پائے تکمیل کو پہنچ رہاہے اور ہم ابھی تک مناسب جگہ کی تلاش میں ہیں۔⁠⁠⁠⁠

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc