وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی مخالفت کے باوجود آئینی سٹیٹس کا معاملہ آگے بڑھ رہا ہے، گلگت بلتستان کو سینٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی دی گئی تو ہم سمجھیں گے کہ ہمیں بہترین آئینی سیٹ اپ ملا ہے پارلیمنٹ میں نمائندگی کے بغیر جو بھی سیٹ اپ دیا جائے گا اس کو ہم ٹو پی ڈرامہ سمجھیں گے ۔امجد ایڈوکیٹ

گلگت ( نامہ نگار) صدر پی پی پی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ اچھی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی مخالفت کے باوجود آئینی حیثیت کے تعین کا معاملہ آگے بڑھ رہا ہے،گلگت بلتستان کو سینٹ اور قوم اسمبلی میں نمائندگی دی گئی تو ہم خیر مقدم کریں گے۔ پارلیمنٹ میں نمائندگی کے بغیر جو بھی سیٹ اپ دیا جائے گا اس کو ہم ٹو پی ڈرامہ سمجھیں گے ،اُنہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے چاہتے ہیں کہ اس خطے کو کو آئینی حقوق دیں اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ریاستی اداروں کی بات نہ ماننے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا نون لیگ کی حکومت گلگت بلتستان کو حقوق دینے کی پوزیشن میں نہیں لیکن ریاستی ادارے چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرومیاں ختم ہوجائے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ اور گورنر کے درمیان سروسز ٹریبونل کے چیئر مین کی تقرری کے معاملے پر تین ماہ سے جھگڑا چل رہا ہے دیکھتے ہیں اس جنگ میں کس کو کامیابی ملتی ہے ،میر سلیم کے حالیہ بیان کے حوالے سے اُنکا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے اوپر جتنے الزامات لگائے ہیں وہ سو فیصد درست ہیں یہی باتیں ہم پچھلے ڈھائی سال سے کہہ رہے ہیں مگر ہم نے جب ون مین شو کی بات کی تو وزیر اعلیٰ نے اپنے ترجمان کے ذریعے ہمارے خلاف بیان دلوایا آج ڈپٹی سپیکر کو میر سلیم کے خلاف بیان دینے کیلئے میدان میں اتارا ہے گلگت بلتستان میں اس وقت مفادات کی جنگ شروع ہو گئی ہے اس جنگ میں غریب لوگ متاثر ہونگے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc