گلگت بلتستان کی سیاست میں گرما گرمی،میر فیملی اور حفیظ الرحمن گروپ میں سیاسی لڑائی شدت اختیار کر گیا، ایک دوسرے پر الزامات کی بارش۔

گلگت( نامہ نگار) گزشتہ دنوں ہنزہ سے پاکستان مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر جیتنے والے میر آف ہنزہ کے بیٹے پرنس سلیم خان نے ایک پریس ریلز میں حفیظ الرحمن کی حکومت کو شخصی اور متعصب ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس بیان کے بعد نون لیگ کے اندر کی دھڑے بندی کھل کر واضح ہوگئے اور ترجمان نون لیگ نے پرنس سلیم کے تمام الزمات کو مسترد کرتے ہوئے یہ نون لیگ کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلیم خان کا نون لیگ سے کوئی تعلق ہے نہ ہی وہ نون لیگ کے باقاعدہ ممبر ہیں۔
یوں ایک بار پھر گلگت بلتستان کی سیاست اور نون لیگ میں ذاتی مفادات کی جنگ کھل کر عوام کے سامنے واضح ہوگئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی یکطرفہ فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف ہنزہ کے عوام میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں بلکہ بلتستان اور دیامر ریجن کے عوام بھی اس حوالے سے بہت ذیادہ تحفظات رکھتے ہیں، لیکن اراکین قانون ساز اسمبلی اپنے ذاتی مفادات کیلئے تمام تر صورت حال کو دیکھ کر خاموش ہیں۔

یاد رہے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ہنزہ کے ضمنی انتخابات میں میر سلیم کو ٹکٹ نہ دینے کیلئے تمام تر کوششیں کی تھی لیکن میر فیملی خاص طور پر رانی عتیقہ جن کا تعلق پنجاب سے ہے،نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ذاتی تعلقات کا اسرروسوخ استعمال کرتی ہوئی مقامی قیادت کے فیصلے اور مطالبے کو مسترد کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت میر سلیم کی نظر وزیر اعلیٰ کی کرسی پر ہے اور اگر نواز شریف نااہل نہ ہوتے تو اب تک وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے تبدیل ہوجانا تھا لیکن نااہلی کے مسلے نے میر فیملی کو فلحال خاموش رہنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc