تازہ ترین

ضلع کھرمنگ غاسنگ کے زرعی وادی چھوچن(ذیادہ پانی والا جگہ) حکومتی توجہ کے منتظر۔

کھرمنگ (ٹی این این /خصوصی رپورٹ)گلگت بلتستان کا پسماندہ ترین ضلع کےموضع غاسنگ پورے کھرمنگ میں وسیع رقبے کی اہمیت کا حامل گاوں ہے۔ اس موضع کی آبادی کاری میں ماضی کے قیادتوں نے بہترین حکمت عملی کے تحت کام کیا اور لب دریا سندھ ایک وسیع عریض علاقے کو آباد کرکے پورے غاسنگ کی سطح پر تقسیم کیا۔اُس تقسیم کی شفافیت پر کئی سوالات کے باوجود آج اس پالیسی کو عوام دوست پالیسی سمجھا جاتا ہے ۔ اس وسیع رقبے کو ماضی بعید میں گاوں کے لوگوں نے دریا کے پانی کا رخ تبدیل کرکے آباد کیا جس کی تاریخ سو سال سے بھی ذیادہ بتایا جاتا ہے۔لیکن اس وقت ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت آباد کردہ اس طویل رقبے کو خالصہ کا نام دیکر ہتھیانے کی کوشش کی جاری ہے اس حوالے سے عوامی سطح پر شدید تشویش پایا جاتا ہے۔ اسی طرح شارع کھرمنگ سے متصل پولی کنال بھی علاقہ غاسنگ کا قدیم آبائی بندوبستی اثاثہ ہے جو کبھی کھیت کھلیار ہوا کرتے تھے لیکن آج ویران نظر آتا ہے ۔ اس وسیع رقبے کو آباد کرنے کیلئے بھی ماضی میں کئی بار کوشش تو کی گئی لیکن چند افراد کے مفادات کا شکار ہوگئے اور یہ وسیع رقبہ اہل علاقہ کی معاشرتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت کا منظر پیش کررہا ہے ورنہ اس علاقےکوانتہائی قلیل سرمائے کے ساتھ آباد کیا جاسکتا ہے۔
غاسنگ نالہ چھوچن(جس کا لفظی معنی ذیادہ پانی والا جگہ ہے) کیونکہ ماضی بعید میں غاسنگ میں منظم کوہل سسٹم نہ ہونے کی اور غاسنگ ندی میں پانی کی کمی سے شدید پانی کی قلت کا سامنا رہتا تھا یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم میں پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے ایک طویل کوہل بہترین دیسی ساختہ واٹر منجمنٹ سسٹم کے تحت منٹھوکھا نالے سے لایا گیا ۔ یوں پانی کا یہ قلت یقینا اُس زمانے کے لحاظ سے کم ہوگیا ہوگا۔ لیکن غاسنگ ٹاون سے صرف چند کلومیٹر فاصلے پر واقع بالائی علاقہ چھوچن جہاں لوئر غاسنگ سے ذیادہ سے لوگوں کی زمینیں اور پھلدار اور غیر پھلدار خاص طور خوبانی کے درخت سے مالا مال ہیں۔لوئر غاسنگ کے بہت سے خاندان ایسے بھی ہیں جن کا ٹاون غاسنگ سے ذیادہ بلائی غاسنگ چھوچن میں زمینیں موجود ہیں۔ اور ماضی قریب میں یہاں لے لوگ سال میں چھے ماہ غاسنگ نالے میں کاشت کاری کرتے اور وہیں رہتے تھے آج بھی غاسنگ میں ایسےچندخاندان ہیںجو تمام تر مسائل کے باوجودخاندان کا گزربسراسی چھوچن سےپوراکرتےہیں لیکن سڑک اورسہولیات نہ ہونےکی وجہ سےابھی تک کئی افراد لقمہ اجل بن چُکے ہیں۔اس خوبصورت وادی کی خاص خوبی یہ ہے کہ یہاں کے زمینوں کو چشموں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے یہاں آلو اور میٹھا مولی خصوصی طور پر اگائے جاتے ہیں اس کے علاہ مٹر بھی یہاں سے اگایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ یہاں سیاحت اور معدنیات کے حوالے سے بھی کثیر مواقع موجود ہیں۔
چھوچن غاسنگ اس وقت حکومت عدم توجہی کے سبب ہر گزرتے دن کے ساتھ ویران ہوتا جارہا ہے کیونکہ مواصلاتی نظام نہ ہونے اور معاشی طور عوام مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے باسیوں کیلئے اس زرعی وادی کومزید آباد رکھنا ناممکن نظر آتا ہے۔ اس وادی تک پونچنے کیلئے دو بار سڑک منظور ہوئے لیکن کرپشن کا شکار ہوگیا اور آج یہ سڑک محکمہ تعمیرات عامہ کی بے حس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ علاقہ سکردو شہر سے صرف 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے حکومت اگر اس خوبصورت وادی پر توجہ دے تو یہ وادی گلگت بلتستان میں خاص طور پر ضلع کھرمنگ میں زرعی ترقی اور سیاحتی حوالے کے حوالے سے مثالی اور فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ جس کیلئے اولین ضرورت اس خوبصورت وادی تک سڑک کا ہونا ہے ۔لہذا حکومت کو چاہئے کہ غاسنگ نالہ کے قدیم سڑک کو مزید وسیع کرکے چھوچن غاسنگ کو بھی گلگت بلتستان میںزرعی ترقی کیلئے اُٹھائے جانے والے اقدامات میں شامل کرنے کی ضررورت ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*