لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا | تحریر حمایت خیال

اقبال عظیم نے اپنے عظیم شعر میں امت کو رہبری کی جانب اشارہ کیا. ہمارے معاشرے خصوصاً گلگت بلتستان کے مسجد و محراب سے منسلک نیم ملاؤں کے نزدیک اس کا مفہوم کچھ اور ہے. جو کہ صریحاً غلط تشریح ہے. ان کے نزدیک امامت یہی ہے کہ امور مسجد کو بہتر طریقے سے انجام دیا جائے. امامت سے مراد پانچ وقت کی نماز یا کسی کی نماز جنازہ کسی اچھی خاصی لمبی داڑھی والے شخص کی اقتداء میں پڑھنا ہے. اگر علامہ اقبال کا بھی یہی نظریہ ہوتا تو وہ بھی کسی مسجد سے منسلک ہو جاتے ، ممبر و محراب سنبھالتے. ….. خدا کی واحدانیت کا وہ معترف تھا. قرآن سے لگاؤ اور محبت محمد و آل محمد کا اندازہ ان کی شاعری سے کر سکتے ہیں. صحابہ کرام کا چاھنے والا. مھدی موعود اور روز جزا و سزا پہ کامل ایمان رکھتا تھا. ایک اچھے سے واعظ تو تھے ہی مونچھے منڈھوا کے ایک آدھ فٹ لمبی داڈھی بھی رکھ لیتے. اقبال لاھوری کو ، برصغیر پاک و ہند کی عظیم شاہی مسجد کا خطیب بننا کوئی مشکل نہ تھا. علامہ کا خطاب پہلے ہی سے نام کیساتھ منسلک تھا عمامہ و دستار پہن بھی سکتے تھے. لیکن ایسا نہیں کیا…..
اامامت اور رہبری ایک عظیم منصب ہے. اس عظیم منصب کے حصول کے لئے سب سے پہلے خود کو عظیم بنانا ہوگا. گلگت بلتستان کے اکثر لوگوں کا رجحان اور عقیدت مذہب نہیں مسلک ہے . میرے نزدیک اگر ان کا رجحان مسلک سے نکل کر مذہب ہو جائے تو ان کے لئے بہت بہتر ہوگا. گلگت بلتستان ایک پسماندہ علاقہ ہے. جو اچھی یونیورسٹی، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز سے محروم ہے. اس کے باوجود یہاں کی شرح خواندگی پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت بہتر ہے. کثیر تعداد میں طلاب مدارس سے فیضیاب ہو رہے ہیں. مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں فقط ممبر و محراب تک کی تعلیم دی جاتی ہے. انہیں عالمی اور سامراجی طاقتوں کی پالیسیوں سے بے خبر رکھا جاتا ہے. ان کی سوچوں کو مختصر کیا جاتا ہے یعنی برین واشنگ کی جاتی ہے. ہر مدارس کا ماننا ہے کہ فقط وہی درست ہے اور سب باطل ہیں. صبر و تحمل کے نہ ہونے کی صورت میں خودکش بمبار کی شکل اختیار کر لیتے ہیں. ان کے نزدیک یہی دنیا کی امامت ہے ، کہ جو ان کے نظریے کو نہ مانے انہیں خدا تک پہنچا دیا جائے.؟
پاکستان کے مختلف مدارس سے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں فارغ تحصیل طلاب پاکستان کے کونے کونے تک پھیل چکے ہیں. ان تمام طلاب کو فلسفہ امامت یا تو سمجھایا نہیں گیا … اگر سمجھایا گیا ہے تو غلط طریقے سے …. میرا ہرگز ممبر و محراب سے کوئی جھگڑا نہیں. مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے. وحدانیت کا قائل ہوں. دین محمدی کا ماننے والا ہوں. قرآن و قیامت پہ یقین کامل ہے. امامت پہ میرا مکمل ایمان ہے. لیکن میرے نزدیک امامت دن کے فقط پانچ اذانوں تک محدود نہیں…..
م
میرے سامنے ایک سوئی ہوئی قوم موجود ہے. جنہیں چن کے کر جگایا جاتا ہے اور اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. اور وہ اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں سے مٹاتے جاتے ہیں. میرا ماننا ہے کہ وہ سوئی ہوئی قوم عظیم تھی جو خواب دیکھ سکتی تھی. اپنی مرضی سے کروٹیں بدل سکتی تھی. اب وہ قوم خواب دیکھنے کی صلاحیتوں سے بھی محروم ہو چکی ہے…..

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc