دیس میں پردیس مظلوم روھنگیا مسلم۔۔!!(دوسری قسط) تحریر : سید حسین

یہ ایک حقیقت امر ہے کسی عمل کے بعد رد عمل اور ہر اثر کے پیچھے کوئی نہ کوئی مؤثر ضرور ہوتا ہے۔میانمار میں اس ناختم ہونے والی خونی فسادات اور مسلم نسل کشی کے کچھ مؤثراور وجوہات  ہیں جو کہ ان تمام پرتشدد واقعات کے جنم لینے میں کارفرماہے۔ہم یہاں  ان وجوہات میں سے چند ایک کاذکر کرتے ہیں ، آج سے کئی سوسال پہلے میانمار کے مولوی عبدالکریم نے اس وقت کی روایت کے مطابق ایک جنتری لکھی جس میں کیلنڈر کے علاوہ اور بھی بہت ساری معلومات اور پیشن گوئیاں  ہوتی تھیں۔ مولوی صاحب نے اپنی جنتری میں مسلمانوں کو حوصلہ دیا کہ برمی حکومت کے مظالم سے گھبرانے کی ضرورت نہیں سو(۱۰۰) سال بعد رنگون جوکہ میانمار کا دارالحکومت ہےاسلام اور مسلمانوں کا مرکز بن جائے گا ۔اس واقعہ کے تقریباً ۱۲۰سال بعد اسی جنتری کا ایک نسخہ ایک قوم پرست بدھ رہنما”ویراتو” کے ہاتھ لگ گیا تو اُس نے مولوی کی  اِس پیشن گوئی سے یہ اخذ کیا کہ مسلمانوں کا برما(موجودہ میانمار) پر قبضے کا منصوبہ ہے اور اسی وجہ سے یہ بیک وقت کئی عوتوں سے شادی کر کے بچے بھی زیادہ پیداکر رہے ہیں ، اور ساتھ میں بدھ لڑکیوں کو مسلمان کرکے ان سے بھی شادی کرتے ہیں۔ بہر حال بدھوں کے قوم پرست رہنما”ویراتو”نے مسلمانوں کےخلاف پورا مقدمہ تیار کیا جس کے بعدسے قتل وغارت کا سلسلہ جاری ہوا ۔دوسری یہ کہ میانمار میں روھنگیا مسلمانوں کو درپیش وہ مشکلات اور ریاستی جبر ہے جس کی وجہ سے روھنگیا مسلم مذہبی آزادی سے بھی محروم ہے، وہ شادی بھی حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتے ، شادی سے قبل دلہا کی تصویر کے ساتھ دلہن کی بغیر پردے والی تصویر سرکاری دفتر میں جمع کرانی پڑتی ہے ،جس کی  ایک مسلمان کی  غیرت وحمیت  اجازت نہیں دیتی ،ایک غیرتمند مسلم کٹ مرتو سکتا ہےلیکن ناموس کی عزت پر کبھی کمپرومائز نہیں کرسکتا۔عام طور پر شادی کی اجازت نامہ بھی تب تک  نہیں ملتا جب تک سرکاری کلرک کو رشوت نہ دی جائے۔ اس طرح کے بہت سارے قوانین  اور پابندیاں جہاں بحیثیت انسان ایک معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں وہاں روھنگیا مسلم کے لیے  اسلام کی تعلیمات کے منافی بھی ہیں ،جو کہ یہ  کرنے پر مجبور ہے۔

ان نسلی فسادات اورتشدد کی دوسری وجہ یہ  ہے جب نوےکی دہائی میں  جب مہاتماگوتم بدھا کے مجسموں اور بدھست آثار کو تباہ کرنا شروع کیا اور اس کی ذمہ داری طالبان کا ایک گروہ “امارات اسلامیہ افغانستان”نے قبول کی تھی تب سے دنیا بھر کی بدھ مت کمیونٹی سمیت میانمار کے بدھؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی فضا بننے لگی۔اس مکروہ کاروائی کے ساتھ ساتھ طالبان ، القاعدہ وغیرہ کے دھشت گردی اور پر تشدد واقعات نے غیر مسلم معاشروں میں اسلام اور مسلمان ایک خوف کی علامت بنتاگیا ، مزید برآن خاص کر اسلامی ممالک میں دھشتگرد جماعتیں جہاد کے نام پر کلمہ گوئیوں کے گلے کاٹتے رہے تو اس سے بھی غیرمسلموں کے ذھنوں میں اسلام ومسلمانوں کے خلاف اس تاثر کو مزید مضبوط کیا۔سن دوہزار بارہ کے  جون سے لے کر  اکتوبر ۲۰۱۶ء  تک رخائن میں بدھ مسلم فسادات نے بہت سارے جانی ومالی نقصان کیا ان فسادات میں دونوں طرف کے مذہبی رہنماؤں سمیت سینکڑوں لوگ مارے گئے ،  اس نام نہاد جنگ میں بھی زیادہ تر نقصانات روھنگیا مسلم کو ہی اٹھانا پڑی۔ انہی فسادات کے نتیجے  میں روھنگیامسلم عطاء اللہ ابوعمار جنونی نامی مولوی نے ایک تنظیم بنائی ، مولانا عطاء اللہ نے تعلیم سعودی عرب سے حاصل کی اور افغانستان سے طالبان کے ذریعہ جنگ کی مہارت وتربیت لے لی ۔ اس تنظیم کا نیا نام ارکان روھنگیا سالویشن آرمی ہے۔ اس مسلح گروہ کے منظر عام پر آنے کے بعد برمی حکومت کی طرفسے دھشت گردی سے مقابلے کے لیے تمام تر انتظامات کو مظبوط کیا ، او ر اِدھر روھنگیا مسلمانوں پر عرصہ حیات بھی تنگ ہونا شروع ہوگیا۔اسی تنظیم پر ۲۰۱۶ میں برمی فورسز پر متعدد حملوں سمیت ۲۵ اگست کو تیس تھانوں اور فوجی چوکیوں پرحالیہ حملوں کا الزام ہے۔

تیسری یہ کہ آنگ سان سوچی کی حکومت ایک طویل فوجی آمریت کے بعد وجود میں آئی ہے ، سوچی کو  ۱۹۹۱ء میں نوبل امن انعام ملا اس کے بعد برمی فوجی حکومت پر عالمی دباؤ بڑھ گئی اور فوج کو بادل نخواستہ اقتدارمنتقل کرنا پڑگیا، اس طرح ۲۰۱۰ ء میں الیکشن ہوئے اور ۲۰۱۱ء کو ایک بار پھر جمہوری حکومت کی تشکیل عمل میں آئی۔سوچی نے گزشتہ برس روھنگیا مسلمانوں کے حق  میں ایک مستحسن قدم اٹھائی ،انہوں نے اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تاکہ رخائن میں شددت پسند بدھؤں اور روھنگیا مسلمانوں کےدرمیان  تنازعےکا انسانی حقوق کی بنیاد پر کوئی سیاسی حل نکالا جائے۔پورے ایک سال کی تحقیقات اور مختلف گروہوں سے ملاقاتوں کے بعد کوفی عنان کمیشن نے ایک رپورٹ تیار کی اور اس کی تجاویز آنگ سان سوچی کو پیش کردیں۔ سوچی نے ۲۴ اگست ۲۰۱۷ ء کو کوفی عنان کمیشن کے کہنے کےمطابق کچھ وزراء پر مشتمل ایک بااختیارپارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تاکہ اس کمیشن کی تجاویز پر عملدرآمد کیا جاسکے۔ سوچی کا یہ اقدام روھنگیا مسلم کے لیے ایک  روشن مستقبل کی نوید تھی۔لیکن نہ جانے کچھ جہادیوں نے ۲۵ اگست کو اس ملک کے ۳۰ تھانوں اور ۲ فوجی چوکیوں پر یک دم حملے کردئے۔کاروائی سے نتیجتاًصوبہ رخائن مکمل میدان جنگ بن گیا، اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے، لاکھوں مسلمانوں کو نقل مکانی کرناپڑی، پوراعلاقہ  تباہ ہوکر رہ گیا، کہا جاتاہے اب تک پورے ۶۰۰ دیہات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے تیس حملے ایک ہی وقت میں کیے اور وہ بھی عین اسی وقت جب برمی حکومت روھنگیا مسلم کے حقوق کےلیے کوفی عنان کے کمیشن پر عملدرآمد کا اعلان کردیا تھا۔خیال رہے سوچی کو اقتدار دینے میں برمی فوج راضی نہیں تھی لیکن عالمی دباؤاور ایک کامیاب جمہوری جد وجہد کے بعدمجبوراً دیناپڑگیا تھا۔سوچی کی طرف سےروھنگیا کے لیے  کوفی عنان  کمیشن بنایاجانابھیبرمی فوج کو پسند نہ تھا۔لیکن چونکہ حکومت نے حتمی فیصلہ سناچکا تھا فوج کو قبول کرناپڑا۔تاہم جب کوفی عنان کمیشن کی تجاویزپر عملدرآمد کے اعلان کے ساتھ ہی روھنگیاکے نام پر جہادیوں نے حملے کیے تو برمی فوج کو زبردست موقع مل گیاکہ وہ حکومت کے اس اقدام کو سبوتاژ کر کے اپنی رائے مسلط کردے، اس طرح سوچی کی اس اصلاح پسند پالیسی کا خواب پورا ہونے نہیں دیاگیا۔ان حالات میں ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ اس سیاسی اصلاحی حل میں خلل ڈالنے والے یہ جہادی گروہ کون ہیں ! اور ان کے ان گھناؤنی حرکت کے پیچھے کیاکیا عزائم کارفرما ہیں۔اس طرح کے اقدام  روھنگیا مسلمانوں کے کوئی دشمن ہی انجام دے سکتاہے، یہ ان کے کبھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔

روھنگیامسلم اس وقت میانمار اور بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں میں محسور ہوکر رہ گئے ہیں برمی فورسز انہیں رہنے نہیں دے رہی  ہمسائہ ممالک انہیں قبول نہیں کر رہے ، ان کے پاس ضرویات زندگی ناپید ہوچکی ہے، بزرگوں اور بچوں کی صحت روز بروز بگڑتی جارہی ہے، خوراک کی قلت اس قدر بڑھ چکی ہے ایک ایک ڈھنگ کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں،  اب تک کی اطلاعات کے مطابق ۶۰۰ کے قریب دیہات مکمل ختم ہوچکے ہیں۔چاروں طرف سے محاصرہ ہے ، انسانی حقوق کی تنظیمیں بشمول اقوام متحدہ، مسلم ممالک کے سربراہان ابھی تک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں نہ جانے کس قسم کی مصلحت پسندی کا شکار ہے، آج ایک بار پھر دنیاکو محمد بن قاسم کا انتظار ہے جو ہر اس آنکھ کو پھوڑڈالے جو اسلام ومسلمین کی طرف اٹھتی ہو۔ دعاہےخدامسلمانوں کے اسلامی حمیت کو جگادے ، آمین۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc