جناح کا پاکستان اور آج کا پاکستان۔تحریر: بشیر احمد حسرت

آج ہمارے قاید کی برسی ہے  ۔ اچھے اور زندہ قوموں کی نشانی ہے کی نہ وہ صرف  اپنے محسنوں کی برسی یا سالگرہ منایا  جاتا ہے بلکہ وہ اپنے قائد کی افکار اور نظریات پہ عمل بھی کرتے  ۔ قائداعظم کا وجود اگر نہ ہوتا تو شاید پاکستان بھی نہ بنتا۔ جناح کو سمجھے بغیر، جناح کے پاکستان کو بھی نہ سمجھ سکیں گے۔ تصورِ پاکستان کا مقصد ایک ہندوستان دشمن ریاست کا قیام نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں برِصغیر کے مسلمان سیاسی اور اقتصادی آزادی کا مزہ لے سکیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے دین پر بلا خوف و خطر عمل کر سکیں۔

پاکستان کی تمام عوام ایک ایسے نظام کی خواہش رکھتے ہیں جس میں بنیادی حقوق انھیں دئیے جائیں ،معاشی طور پر انھیں پر یشانی کا سامنا نہ ہو، امن و سکون کی زندگی ہر پاکستانی کا دیرینہ خواب ہے۔اب چاہے دریا راوی ،یا دریا سندھ ،یا دریائے سوات کے کنارے ایک عورت اکیلی جائے یا خاندان کیساتھ ، لیکن پر امن جائے ۔ کیونکہ بلا امتیاز ، رنگ و نسل و مذہب ہر ایک انسان چاہتا ہے کہ اس کی مرضی کی زندگی کسی کے بیرونی مداخلت کے بغیر گذرے۔ نظریہ چاہیے کوئی بھی ہو ، جبر کے ذریعے کسی پر مسلط کرنے کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب اپنے پیروکاروں کو نہیں دیتا ۔اسلام توخود امن و سلامتی کا نام اورمکمل نظام حیات ہے اور دین میں جبر کا ازخود سب سے بڑاا مخالف ہے لہذا کسی بھی قومیت کا شہری اس حوالے سے متضاد رائے نہیں رکھتا کہ اسلام کے نام لیوا کبھی بھی اصلاح کے نام پر فساد کے پھیلاؤ کا سبب نہیں بنیں گے۔

اسلامی تشخص میں اس بات میں کسی شک و شبے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ اسلام محبت ، خلوص اور تدبر کے ساتھ عملیت پسندی کی تعلیم دینے والا آفاقی دین الہی ہے ۔ جس میں تحریف کیلئے خود اس کے ماننے والوں نے اپنے درمیان تفرقے کی دیوار اونچی کی اور تفریق ہے۔ریعے اﷲ کی رسی کو تھامنے کے بجائے مختلف فرقوں میں بٹ گئے ۔اب ان تفرقوں میں بٹ جانے والوں نے اپنے نظریات کو اسلام کا لبادہ دیکر دوسرے مسلک پر زبردستی حاوی کرنے کی کوشش کی ہے تو ایسے کوئی باشعور درست نہیں سمجھے گا۔ جب ہم قومیتوں کی بات کرتے ہیں تومیں ایسے اس طرح لیتا ہوں جیسے ایک پختون قوم ہے ، اور اس میں پشتو زبان دوسروں کیلئے ایک زبان ہے لیکن سب اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کسی بھی خطے کی زبان ایک جیسی نہیں ہے بلکہ ہر تھوڑے فاصلے کے بعد اس میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے اور بولنے والا ایسے جب اپنے علاقائی لب و لہجے میں بیان کریگا تو بادی النظر یہی لگے گا کہ پٹھان بات کر رہا ہے ۔ لیکن نسلی طور پر پٹھان، پختون،پشتون ،افغان ایک ہی ہیں اور اس میں بھی مختلف قبیلے ہیں ۔ اسی طرح سندھ ، پنجاب ، بلوچ ، اردو سمیت کسی بھی زبان کو لے لیں اس کی بنیادی ادائیگی زمینی فاصلوں کی وجہ سے تقسیم ہوکر تبدیل ہوجائے گی لیکن با حیثیت قوم اس کی نسل افغان ، پنجابی ، بلوچی، بروہی یا کوئی بھی ہو وہی قومیت کہلا ئے گی ۔پاکستان کی سلامتی بقا ء کا کوئی بھی دشمن جس لبادے میں بھی ہو ایسے پاکستان سے زیادہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے ایسے عناصر کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ذریعے بین الاقوامی ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے ۔سیاسی طور پر پاکستان کی صورتحال معلق و غیر یقینی رہتی ہے ۔

دفاعی طور پر مختلف طریقہ کار اختیار کرکے پورے پاکستان میں ایسی فضا پیدا کردی گئی ہے کہ مقاصد پاکستان کا حصول جن نظریات کے تحت کیا گیا تھا وہ مشرقی پاکستان کیساتھ ہی دریائے بنگال میں ڈوبو دینے کی کوشش کی گئی ۔پاکستان کی بنیاد صرف دو قومی نظرئیے پر رکھی گئی تھی اور نظریہ کبھی بھی ایک دو سال کی پیداوار نہیں ہوتا کہ متحدہ ہندوستان کے حامی یکدم پاکستان کے بانی بن گئے بلکہ تاریخ میں پسنے والی قوموں میں انقلاب مختلف ادوار میں پیدا ہوتے ہوئے آتش فشاں بن جاتے ہیں اور ایک دن وہ لاوا پھوٹ کر تباہی مچا دیتا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc