وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری سبطین احمد اور برادران نے دیامر ڈیم کی لینڈ ایکوزیشن میں اربوں کی کرپشن کی ہے اور یہ بات سمجھی سے بالاتر ہے کہ ایک بدکردار قسم کا کرپٹ بیوروکریٹ وزیر اعلی کا پرنسپل سیکرٹری ہے۔ تھک نیاٹ مومنٹ

چلاس(نامہ نگار )تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ کے زیر اہتمام چلاس میں ایک بڑا احتجاجی اجتماع منعقد ہوا ۔اس عوامی اجتماع میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تھک داس میں عوام کے ہزاروں گھر آباد ہیں ہم اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر اراضی سرکار کو کسی قیمت پر نہیں دیں گے ۔ اگر ہمارے ساتھ چھیڑا گیا تو ہزاروں عوام حق ملکیت اور حق حاکمیت کی تحریک کا آغاز دیامر سے بھی کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ہمیں نہ تو کوئی عدالتی ایوارڈ منظور ہے اور نہ ہی کوئی معاوضہ چاہئے ہمیں اپنی زمین درکار ہے ۔ مقررین نے کہا کہ وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری سبطین احمد اور برادران نے دیامر ڈیم کی لینڈ ایکوزیشن میں اربوں کی کرپشن کی ہے اور یہ بات سمجھی سے بالاتر ہے کہ ایک بدکردار قسم کا کرپٹ بیوروکریٹ وزیر اعلی کا پرنسپل سیکرٹری ہے وزیر اعلی کو چاہئے کہ وہ کرپٹ افسران کے دفاع کی بجائے ان کے کرپشن کے خلاف انکوائری عمل میں لائیں۔ مقررین نے کہا کہ تھک داس میں سبطین کے رشتہ داروں کی الاٹ منٹس ہیں جن کو بچانے کیلئے عوام اور حکومت میں تصادم کی کیفیت پیدا کرنے کیلئے مقتدر ایوانوں اور عوام میں غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ 2010 میں جب سبطین دیامر کے ڈپٹی کمشنر تھے تو انہوں نے تھک کے عمائدین کو اپنے دفتر میں بلا کر تھک داس کو پانی لا کر آباد کرنے کا خصوصی ٹاسک دیا تھا جس کا ثبوت آج بھی ہمارے درجن بھر باریش بزرگ قرآن پر ہاتھ رکھ کے کر سکتے ہیں اس کے باوجود سبطین نامی سازشی کرپٹ بیورو کریٹ آج کس منہ سے تھک داس کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں لگتا ایسا ہے کہ سبطین وزیر اعلی سیکرٹرہٹ کو بھی بلیک میل کر چکے ہیں اسلئے ان کی کرپشن کے خلاف آج تک کوئی کاروائی اور احتساب نہیں ہوا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ سبطین کے بھائی کے خلاف دیامر ڈیم میں ہونے والی میگا کرپشن پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے کمیٹی بنا کر ہونے والی انکوائری کو ٹوکری میں کیوں پھینک دیا گیا ہے ؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس انکوائری رپورٹ کو کھولا جائے ۔ دیامر ڈیم میں اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے چند غریبوں کے پیسے کاٹ کر قومی خزانے میں ڈالنے کا شوشہ رچایا گیا ہے جس پر کوئی بھی نہیں بولتا۔ جس سبطین برادران کا سنہ 2002 تک پکوڑوں کی دکان تھی آج وہ اسلام آباد میں بنگلوں کے مالک کیسے بن گئے ؟ مقررین نے واضح کیا کہ تھک نیاٹ کے عوام یا تھک داس پر کسی قسم کا ایکشن ہوا تو جس کی تمام تر ذمہ داری سبطین برادران پر عائد ہوگی۔مقررین نے کہا کہ تھک کے نیاٹ بابوسر کی 30 ہزار عوام ایک نکتے پر جمع ہے اور یہ عوام تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ کی پشت پر کھڑی ہے ۔ ہم ہر قیمت پر اپنے حقوق کا دفاع کریں گے اگر کسی نے ہمارے صبر کا امتحان لینے کی کوشش کی تو سخت قسم کا ردعمل ہوگا جس کی ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ واپڈا اور انتظامیہ کو ہوش کی ناخن لینے کی ضرورت ہے لوگوں کو بے گھر کر کے ماڈل کالونیاں نہیں بن سکتی اور نہ ہی طاقت کے ذریعے ڈیم بن سکتا ہے ۔ تھک نیاٹ بابوسر کی عوام وہ واحد عوام ہے جس ے مفادات کے بغیر ڈیم کی حمایت کی ہے آج چند کرپٹ بیوروکریٹس عوام اور حکومت میں غلط فہمیوں کے ذریعے عوام کو دیامر ڈیم سے متنفر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تھک داس تھک والوں کی ملکیت ہے اور آج ہزاروں افراد گھر بھاڑ کے ساتھ گذشتہ 5 سالوں سے مقیم ہیں 5 سالوں سے واپڈا اور حکومت کہاں تھی اب فقد ایک بیوروکریٹ کی اراضی کو بچانے کیلئے کوئی بھی اقدام ہوا تو سخت جوابی ردعمل ہوگا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ ضیا اللہ تھکوی نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے کسی بیوروکریٹ کی باتوں میں آکر ہمارے خلاف کوئی اقدام اُٹھایا تو پھر اہلیان تھک نیاٹ ایسا رد عمل دیں گے جس کی گلگت بلتستان میں کوئی مثال نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف اگر حکومت نے یہی رویہ اپناکر مزید غلط پالیسیاں بنائی تو پھر جلسے نہیں ہونگے کچھ اورہوگا ۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حاجی مشتاق نے مزید کہا کہ ہمارے خلاف حکومتی سطح پر سازشیں کی جارہی ہیں وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری نے تھک کے لوگوں کے خلاف سب سے بڑی سازش کی ہے اور حالات کو خون خرابے کی طرف لے جانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تھک داس کی اراضی ہماری ملکیتی ہے اگر کسی نے مداخلت کیا تو سخت رد عمل آئیگا ۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ‘ مولانا شجاع الحق نے مزید کہا کہ وزیر اعلی نے ایک گلگت میں ایک ایسا پرنسپل سیکرٹری کو پالے رکھا ہے جس کے پیٹ میں دیامر ڈیم کے متاثرین کے پیسے جمع ہیں اور وہ اب وہ ہمارے خلاف سازشیں کرنے لگے ہیں ۔وزیر اعلی پرنسپل سیکرٹری کو ہٹائیں جس نے دیامر کو تباہ کیا ہے ۔سبطین کا پچھلے ماہ ایک سیکنڈل سامنے آیا ہے اُس سیکنڈل کی تحقیقات کی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ سبطین احمد دیامر ڈیم ،سی پیک اور دیگر میگا منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے تھک کے عوام کو انتظامیہ اور دیگر اداروں کے ساتھ لڑانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری ہمارے خلاف سازشیں کرکے کہاں جائیگا سوچ لیں ۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کالاخان نے کہا کہ اگر تھک داس سے عوام کو حکومت نے بے دخل کرنے کی کوشیش کی تو اس کی تمام تر زمہ داری سبطین پر عائد ہوگی ،تھک کے عوام اپنا بدلا سبطین سے لیں گے۔جلسہ عام سیخطاب کرتے ہوئے ‘مولانا عبد الخالق’ مولانا مطیع الحق’ نمبردار براق’ مولانا محمد دین’ قاری شبیر’ صدر بازار کمیٹی حاجی عبد المالک’ حاجی میون اور مولانا محفوظ و دیگر نے کہا کہ عوامی ملکیتی اراضی کے خلاف سازشیں برداشت نہیں ہونگی ،دیامر میں پاکستان کے خلاف نعرے لگانے والوں کے لیئے کالونیاں بنائی جارہی ہیں جبکہ پاکستان کیلئے قربانی دینے والوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے جو کہ ظلم و بربریت کی بدترین مثال ہے ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc