تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ و اہلیان تھک نیاٹ بابوسر کے زیر اہتمام چلاس میں تھک داس ماڈل کالونی ہٹاو دیامر بھاشہ ڈیم بچاو کے عنوان سے منعقدہ جلسہ عام اور احتجاجی مظاہرہ۔

چلاس(پ،ر)تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ و اہلیان تھک نیاٹ بابوسر کے زیر اہتمام چلاس میں تھک داس ماڈل کالونی ہٹاو دیامر بھاشہ ڈیم بچاو کے عنوان سے منعقدہ جلسہ عام اور احتجاجی مظاہرے میں عمائندین تھک نیاٹ اور تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ کے زمہ داروں ضیاء اللہ تھکوی،نمبردارزبیر،نمبردار،براق،حاجی جیل خان،حاجی شاہ خان،حاجی مبارک،حاجی مقابل شاہ،حاجی لاخان حاجی وزیر خان، مشتاق احمد ،حاجی وہاب،مولانا سجاع الحق،کالا خان،حاجی طوطا،غلام غفور،جعفر جمالی،ضیاء باشاہ،جہانزیب و دیگر نے جلسہ عام کے بعد متفقہ طور پر ایک قرار داد پیش کی جس میں اہلیان تھک نیاٹ نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کے تحت عوام الناس ضلع دیامر کو دئیے جانے والے فوائد سے عوام الناس تھک نیاٹ بابوسر تا حال محروم ہیں لیکن پھر بھی ہم ریاست کے وسیع تر مفاد کے خاطر دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کا حمایت کرتے رہے ہیں ۔حکومت اور واپڈا حکام متاثرین ڈیم کی بحالی کے لئے تھک داس میں ماڈل کالونی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔چونکہ تھک داس میں اہلیان تھک نیاٹ بابوسر کے ہزاروں رہائشی مکانات موجود ہیں اور ہزاروں خاندان اپنے اہل خانہ اور مال مویشی سمیت رہائش پزیر ہیں ۔متاثرین ڈیم کی بحالی کے لئے ہزاروں عوام الناس تھک نیاٹ بابوسر کو متاثر کرنے کی سازشی پالیسی اور منصوبہ جوکہ سراسر بد نیتی پر مبنی ہے ہمیں کسی صورت قبول نہیں ۔لہذٰا تھک داس ماڈل کالونی کی تنسیخ عمل میں لائی جائے۔بصورت دیگر ہزاروں عوام الناس کے دلوں میں واپڈا اور ڈیم مخالف جذبات اُبھر سکتے ہیں جوکہ انتہائی نقصان دہ ہونگے ۔
اس ملک و ریاست کی دفاع کے خاطراہلیان تھک نیاٹ بابوسر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں جوانوں نے پاک فوج کی وردی پہن کر اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر چکے ہیں اور ہم آئیندبھی اس ملک و ریاست کے دفاع کے لئے محاذوں پر جان قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ہمارے شہدا کے قبروں پر لہراتے ریاستی پرچم گواہ ہیں کچھ حکومتی اہلکار اور ادارے ہم پر فوج کشی کی دھمکیاں دے رہے ہیں ہمیں افواج پاکستان سے ایسا توقع نہیں اور اگر کسی طرح فوج کشی کی جائے تو ہم اپنے چادر اور چاردیواری کے خاطر بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی لئے تیار ہیں ۔
دیامر بھا شا ڈیم متاثرین کو ڈاؤن کنٹری یا گلگت بلتستا ن کے کسی اور موزوں و مناسب جگہ سٹیل کیا جائے۔ اگر اس طرز کا سٹیلمنٹ ممکن نہیں تو پھر ڈیم متاثرین کو پلاٹس کے بجائے نقدی رقم ادا کیا جائے تاکہ ری سٹیلمنٹ اشیو ہی ختم ہو جائے۔
اہلیان تھک نیاٹ بابوسر کو حکومت اور ادارے ہر وقت نظر انداز کرتے ہیں ہم کب تک برداشت کرینگے ۔تھک نالے کے اندر جو پروجیکٹ واپڈا اور پی ۔ڈبلیو ،ڈی ۔کے تحت بنائے جا رہے ہیں ان منصوبوں کے حوالے سے عوام الناس تھک نیاٹ بابوسر کے ساتھ (Water Right)
حقوق ملکیت پانی کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔ان منصوبو ں کے حوالے سے عوام الناس تھک نیا ٹ بابوسر کو اعتماد میں لیاجائے۔
ہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 2007 ؁ء سے لیکر 2015 ؁ ء تک کرسٹل سروے کے دوران اس وقت کے ذمہ داروں نے من پسند افراد کے ساتھ ساز باز کر کے جو کر پشن کیا اس کرپشن کا انکوائری بٹھایا جائے اس کے علاوہ اپنے پرسنل سیکریٹری کو تھک داس میں مداخلت کرنے سے روکے بصورت دیگر ہم بھی حق ملکیت و حق حاکمیت کی تحریک چلانے پر مجبور ہو جائیں گے۔
جملہ مالکان تھک نیاٹ بابوسر اپنے اجتماعی اشیوز کے حوالے سے باہم منظم و متفق ہیں ۔قومی معاملات کے حوالے سے ہم تمام سیا سی مصلحتوں سے بالا تر ہیں ۔تھک داس ماڈل کالونی کے حوالے سے ہمیں عدالتی ایوارڈ کسی صورت منظور نہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc