بلیو وہیل گیم۔۔۔ ایک جان لیوا گیم۔ تحریر: بشیر احمد حسرت

بلیو وہیل گیم  کا آغاز  2013 میں روس میں ہوا۔اس گیم کو فلپ بوڈکن نے تخلیق کیاہے۔اس گیم کا تصور ساحل پر آنے والی وہیل سے لیا گیا ہے۔ ساحل پر پھنسے والی کچھ وہیل خودکشی کرنے کے لیے ساحل کا رخ کرتی ہیں۔اس گیم میں بھی آخر میں پلیئر کو خود کشی کرنے کا کہا جاتا ہے۔ مئی 2017ء میں فلپ کو روس میں حراست میں لے لیا گیا۔فلپ کو 16 نوجوان لڑکیوں کو خودکشی پر اکسانے کا مجرم مانا گیا ہے۔

فلپ کے مطابق اس گیم کے بنانے کا مقصد خودکشی کے ذریعے معاشرے کے فالتو لوگوں کا صفایا ہے۔اس گیم کو بنا نے والے 22سالہ نفسیات کے طالب علم فلپس بڈیکن کو مئی میں گرفتار کیا گیا اور یہ گیم بنانے پر اسے تین سال قید کی سزا ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود یہ موت کا کھیل ابھی بھی جاری ہے اور لوگوں کی جان لے رہا ہے۔

فلپس بڈیکن کا کہنا ہےکہ ’’میرا اس گیم کو بنانے کا مقصد معاشرے سے نکمے اور نا کارہ لوگوں کو ختم کرنا تھا‘‘، اس سے پوچھا جانا چاہیے کہ اسے اس بات کا اختیار کس نے دیا۔ اس گیم میں پلیئر کو 50 دن میں 50 ٹاسک پورے کرنے ہوتے ہیں۔ پلیئر کو ان ٹاسک کے پورے کرنے کا دستاویزی اور تصویری ثبوت بھی فراہم کرنا ہوتا ہے۔گیم کے شروع کے ٹاسک عام سے ہوتے ہیں جیسے آدھی رات کو ڈراونی فلم دیکھنا یا آدھی رات کو اٹھنا۔اس کے بعد کے ٹاسک مشکل ہوتے جاتے ہیں۔ اس میں پلیئر کو خود کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے، منشیات کی زیادہ مقدار لینی ہوتی ہے یا کسی اونچی بلڈنگ پر چڑھ کر بالکل کنارے پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ان تمام مراحل میں پلیئر اپنی ذاتی شناختی اور ذاتی معلومات بھی گیم کے ایڈمنز کو فراہم کرتا رہتا ہے۔ ان معلومات کو بعد میں پلیئر کو بلیک میل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ گیم کا ہر ٹاسک مکمل کرنے پر پلیئر کو کہا جاتا ہے کہ اپنے بازو پر چاقو سے نشان بنائے۔ جیسے جیسے ٹاسک مکمل ہوتےہیں بازو پر بلیو وہیل کی شکل بنتی جاتی ہے۔گیم کے پچاسویں دن پچاسویں ٹاسک میں پلیئر کو خود کشی کرنے کا کہا جاتا ہے، جس سے انکار پر اس کی ذاتی معلومات شائع کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔اسی وجہ سے گیم شروع کرنے والے کے لیے ایک بار گیم شروع کر کے واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔

یہ کھیل نوجوانوں کو نفسیاتی، سماجی اور دیگر طریقوں سے ورغلانے کی کوشش کرتا ہے، بچوں پر اس کا حملہ بڑی جلدی مؤثر ہوتا ہے، کیونکہ بچے پیسوں کے لا لچ میں یا کسی اور دبائو کے نتیجے میں ان ہدایات پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ گیم جس نے ایجاد کیا تھا اسے تو روس میں گرفتا ر کر لیا گیا ہے اور اسے سزا بھی ہو گئی ہے، مگر اسے اب بھی مختلف افراد آپریٹ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس اور ایپس مثلاً فیس بک ، جی میل، یاہو، ہوٹ میل، اور واٹس ایپ سمیت دیگر کے ذریعے اچانک دنیا کے کسی بھی شہری کو ”بلیو وہیل آن لائن گیم “ کے نام سے ایک لنک بھیجا جاتا ہے جس کو فالو کر نے کے بعد گیم کی شروعات ہوتی ہے۔ یہ گیم عملی طور پر آن لائن ”سکائیپ “ یا دیگر ذرائع سے کھیلی جاتی ہے جس میں کھیلنے والا گیم کے ایڈمنسٹر یٹر کو براہ راسست وہ سب کچھ دکھا رہا ہوتا ہے جو اسے چیلنج کے طور پر کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ گیم مختلف واٹس ایپ گروپس کے ذریعے لنک کے ذریعے لوگوں کو بھیجا جارہا اور پھر اس کے کھیلنے والے کے مصیبت کے دن شروع ہوجاتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی انٹرنیٹ کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اس گیم یا ایسی کسی بھی غلط سمت میں انہیں جانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

خودکشی مایوسی اور ناامیدی کی علامت ہے، معاشرے میں امید کی روشنی بڑھانے کے بجائے ناامیدی کا اندھیرا پھیلانے کی کوشش کو کسی بھی سطح پر پذیرائی نہیں مل سکتی۔

بلیو وہیل گیم کا خوف پھیلتا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر اس سے دور رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔اس گیم سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کی پوری ذمہ داری والدین پر عائد ہو تی ہے کہ وہ ان کی ہر حرکات پر نظر رکھیں اور انہیں اس بارے میں آگاہ کریں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc