دیس میں پردیس مظلوم روھنگیا مسلم۔۔!! تحریر :سید حسین

گرچہ اقوام عالم کی تاریخ مسلمانوں کے کشت وخون کی داستان سے بھری پڑی ہے لیکن روھنگیا مسلمانوں کی تاریخ کچھ انوکھی سی ہے۔روھنگیابرما (میانمار)کے صوبہ ارکان کے مسلم کمونٹی کا نام ہے ، ارکان۴ ۱۹۸ ء تک ایک آزاداسلامی ریاست تھی جس پر برما کے قابض حکمران بودوپھیہ نے جبراًقبضہ کیااور برما میں ضم کردیا جو کہ اب برما(میانمار)کے مسلم اکثریتی صوبہ ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد تقریباً (۷۰)ستر فیصد ہے ۔یہاں اسلام عرب تاجروں کے ذریعے پھیلا اور اس کے آثار ۱۰۵۰ء سے ملتے ہیں ، برما( نیا نام میانمار) میں مذھبی اعتبار سے بدھ مت سب سے بڑی  آبادی ہے ، مہاتمابدھ کو دنیا کاسب سے بڑا امن کا پیامبر اور عدم تشدد فلسفے کا داعی کہا جاتاہے۔ان کے نظریے کے مطابق کسی جانورمارنا ایسے ہی ہے جیسے کسی انسان کو قتل کیاہو، مگر بدبختی سے ان کا یہ فلسفہ روھنگیا مسلمانوں کی نسبت اُلٹ نظر آتاہے۔ روھنگیا مسلم آج کی اس صدی میں بھی اپنے ہی دیس میں پر دیس کی زندگی گزار نے پر مجبور ہے۔ان کے پاس قومی شناخت سمیت بنیادی انسانی حقوق میں سے کوئی چیز میسر نہیں ۔انتہائی غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے ناختم ہونے والی قتل وغارت گری کا شکارہے۔ذرائع کے مطابق روھنگیا مسلمانوں پر جانور ذبح کرنے پر پابندی ہے حتیٰ کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی سنت ابراھیمی پر عمل کرتے ہوے اللہ کی راہ میں قربانی بھی نہیں دے سکتے۔ ماضی میں بھی ایسی پابندیاں لگتی رہتی تھی اور مسلمانوں کے بے جا تنگ کرتے رہتے تھے۔ ۱۷۸۲ ء میں اس وقت کے بادشاہ” بودھاپایہ” نے اس حد تک جسارت کی کہ پورے علاقے کے مسلمان علماء کر سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا اور انکار پر ان سب کو قتل کردیا گیا۔ برما کی تاریخ میں اس المناک واقعے کے بعد ایک عبرتناک معجزہ رونما ہواوہ یہ کہ سات دن تک برما کی سرزمین پر سورج طلوع نہیں ہوا،بعد میں بادشاہ نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور مسلمانوں سے معافی بھی مانگی۔ مگر نہیں معلوم  اتنے واضح اور صریح نشانیوں کے ظاہر ہونے کے باوجود برمی حکمران کو ہوش کیوں نہیں آتی۔ برمی مسلمانوں کی مظلومیت کی داستانیں ہر دور میں ایک دوسرے سے مختلف ملتی ہے ،یہاں کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہتی رہی ہے۔ایک اعداد وشمار کے مطابق ۱۹۸۲ ء میں کم وبیش ایک لاکھ مسلمان شھید ہوئے اورتقریباً۲۰ لاکھ سے زائد مسلمان بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت کی طرف ہجرت کر گئے، اسی طرح یہ قتل وغارت کا سلسلہ آگے چلتا گیاپھر ۱۵ مئی سے ۱۲ جولائی ۲۰۰۱ کے درمیان بدھوئوں نے ایک مسجد پر حملہ کرکے عبادت میں مصروف نمازیوں کو قتل کردیا اور اس فساد کے نتیجے میں گیارہ (۱۱)مساجد شھید، تقریباً ۴۰۰ سے زائد گھر نذر آتش اور کم وبیش ۲۰۰ مسلمانوں کو شھید کردیا گیا۔برما پر ۱۹۶۲ء  سے لے کر ۲۰۱۰ء تک فوجی حکومت کرتے رہے۔ ۲۰۱۱ء میں میانمار میں ایک بار پھر جمہوری حکومت نے قدم رکھی اور آمریت کا دور ختم ہوا۔اس دوران روھنگیا مسلمانوں نے اپنے حقوق کے لیے ایک بارپھر آواز اٹھانا شروع کیا لیکن اس بار بھی بڑی سختی کے ساتھ اس ان کی آواز کو دبا دی گئی۔ اور اب ۲۵ اگست ۲۰۱۷ کو برمی فوج مسلم آبادیوں میں داخل ہوئی اور آپریشن کے نام پر قتل وغارت شروع کیاگیا، اور ایک ہفتے کے اندر تیس سے چالیس ہزار مسلمان جن میں عمر رسیدہ افراد سے لے شیر خوار بچوں تک کو بے دردی سے شھید کردیا گیا اور اب بھی یہ سلسلہ نہیں رکا۔ستم بالائے ستم تو یہ ہے ان مظلوم مسلمانوں کے داد رسی کےلیے نہ کوئی مسلمان ملک آگے آئے ہیں اور نہ اقوام متحدہ کا امن مشن اور عجب تو یہ ہے  نہ ہی برمی حکومت کی طرف سے بھی کسی کو روھنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے آنے کی اجازت ہے۔ یہ اپنے ہی دیس میں پردیس اور غریب الوطنی میں مارے جارہے ہیں ۔ بالآخر یہ مظلوم مسلمان جائیں تو کہاں جائیں اپنے ملک میں رہنے نہیں دیاجارہا ہمسائیہ ممالک پناہ نہیں دے رہا ، اطلاعات کے مطابق کثیر تعداد میں تارکین وطن دوسرے ملکوں کا رخ کر رہے لیکن ان ممالک کے پناہ دینے سے انکارکے باعث سمندر کی لہروں کے نذرہو گئے اور غریب مائیں اپنے لخت جگر کو بھاؤں میں لیے بلکتے بلکتے پانی میں ہی دم توڑ دیے۔خدا کرے مسلم حکمرانوں کی کانوں تک ان مظلوم ماؤں بہنوں کی آوازیں بھی پہنچیں اور ان کی داد رسی کے لیےنکلے۔ خداوند عالم تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کی دکھ درد سمجھنے اور آپس میں اتفاق و اتحاد کی توفیق دے۔ آمین۔

 

About admin

2 comments

  1. السلام علیکم ۔گزارش یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ لداخ وکرگل سے حجرت کر کے گلگت بلتستان سمیت پاکستان میں دیگر علاقوں میں آباد مہاجرین کے لیے گلگت بلتستان اسملی میں مخصوص نشت مختص کیوں نہیں کی جاتی اور یہی سوال کشمیر اسمبلی کے لیے ہے ؟ اور اگر یہ ہو جائے تو ھندوستان اور بین الاقوامی اداروں پر یہ باور کرانے میں آسانی ہو گی کے لداخ و کارگل کے مسلم اکثریتی علاقوں کو گلگت بلتستان میں شامل کیا جائے۔

    • حکومت پاکستان کو چاہیے کہ گلگت و بلتستان صوبہ کو مکمل آئینی اختیارات دہیے جائیں تاکہ اس صوبے سےبھی دیگر صوبوں کی طرح نمائندے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنی نمائندگی کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے لوگوں کے بنیادی حقوق کے لیے اپنی آواز پہچانے کے ساتھ ساتھ پالیسی مرتب کر سکیں تاکہ یہ صوبہ بھی دیگر صوبوں کی طرح ترقی کے صف میں شامل ہو سکے اور اس صوبے کے عوام بھی بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔آج انسانی حقوق کی باتیں کرنے والے اداروں کو یہ کیوں نہیں دکھائی دیتا کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ مردم شماری میں صوبہ گلگت وبلتستان کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے؟اگر حقوق کی بات کی جائے تو مہاجرین لداخ و کارگل جو گلگت وبلتستان کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں آباد ہیں کشمیر اور گلگت بلتستان اسملی میں ان کے لیے مخصوص نشست کیوں مختص نہیں کی جاتی اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم مقبوضہ کشمیر اور لداخ و کارگل کے مسلم اکثریتی علاقوں پر اپنا حق ثابت کرنے کی کوشش کریں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc