ایس سی اور اور پی ٹی اے کی چپقلش نے گلگت بلتستان کے انٹرنیٹ صارفین کو ذہنی مریض بنایا ہوا ہے۔

گلگت( نامہ نگار) دور حاظر میں انٹرنیٹ انسانی زندگی کی ایک اہم ضرورت بن چُکی ہے لیکن گلگت بلتستان کے عوام دیگر بنیادی انسانی حقوق کی طرح اس مسلے کو لیکر کئی سالوں سے پریشان ہیں، مگرایک ادارے کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے کوئی بولنے والا نہیں۔ گزشتہ مہینے SCO نے گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ سروس کا باقاعدہ آغاز کیا تو عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،لیکن پی ٹی اے نے SCOM سے مواصلاتی رابطہ کاری کے معاہدے تک انٹرنیٹ سروس تھری اور فور جی پر پابندی عائد کردی تھی۔
دوسری مرتبہ یکم اگست کے بعد چودہ اگست کو تھری اور فور جی سروس کے دوبارہ آغاز کی نوید سنا دی گئی لیکن وہ نوید ہی رہی ، ستمبر کے مہینے پھر افواہ چلی کہ چھ ستمبر کو یوم دفاع پاکستان کے موقع پر پر ایس سی او نیٹ صارفین کو تھری اور فور جی کا تحفہ دے گی۔لیکن ذرائع کے مطابق کہ پی ٹی اے اور ایس سی او کے مابین معاملات تاحال معاملات طے نہیں پائے ہیں معاملہ طے ہونے کیلئے مزید ایک یا دو مہینہ لگ سکتا ہے۔ علاوہ اس وقت گلگت بلتستان کے بہت سے علاقوں میں DSLسروس اور ٹیلی فون سروس بھی مکمل طور پر بند ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ جب پاکستان نے تمام نجی موبائل کمپیناں گلگت بلتستان میں موبائل سروس فراہم کرسکتا ہے تو 3Gاور 4G سروس فراہم کرنے میں کیا مسلہ ہے لیکن کہا یہ جارہا ہے کہ SCOاس وقت نجی کمپینوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،لہذا حکومت کو چاہئے کہ اس معاملے کو وفاقی سطح پر اُٹھائیں اور ایک ادارے کی اجارہ داری کو ختم کرنے کیلئے PTA سے مدد طلب کریں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc