گندم کے نرخ میں اضافہ گلگت بلتستان میں ایک بار پھر دھرنوں کا موسم شروع ہونے والےہیں، حکومت کی جانب سے بھی خطرناک اعلان ۔

گلگت ( نامہ نگار) گندم سبسڈی  کا معاملہ گزشتہ کئی سالوں سے گلگت بلتستان کو عوام کو متحد کرنے کا سبب بنا ہوا ہے گلگت بلتستان کے عوام بھلے کی بنیادی حقوق کیلئے متحد نہ ہو لیکن جب معاملہ گندم سبسڈی کا ہو تو تمام تر مذہبی،سیاسی،علاقائی اختلافات کو بُھلا کر یکجاں ہوجاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گندم کے ریٹ میں فی کلو دو روپیہ اضافہ کی خبر نے گلگت بلتستان کے عوام کو ایک بار پھر پریشانی میں مبتلا کیا ہے۔ اس مسلے کو لیکر سیاسی مذہبی جماعتوں نے ایک بار پھر عوام کو سڑکوں پر لانے کا فیصلہ کیا ہے، مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔ امجد ایڈوکیٹ، مولانا سلطان رئیس، آغا علی رضوی،مولانا بلال زبیری سمیت کئی سیاسی اور مذہبی شخصیات عوامی احتجاج کو موثر بنانے کیلئے متحرک ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف حکومتی حکمت عملی کے حوالے سے بھی ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سےدھرنے کو روکنے کیلئے حکمت عملی تیار کیا ہے جس کے مطابق دھرنے کی باتیں کرنے والوں  کوفورتھ شیڈول شامل کرنے واضح امکانات  مقدمات بنانےکا پروگرام ہے۔

المیہ یہ ہے کہ جن کے ہاتھ میں اختیارات ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں حقوق کی باتین جرم ہیں گزشتہ دنوں  گرفتار ہونے والے سوشل ایکٹوسٹ نثار حسنین رمل کے حوالے سے بھی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اُن پر یہ کہہ کر جسمانی تشدد کیا گیا کہ تم پنجاب کا گندم کھا کر  حقوق کی بات کرتے ہوئے۔لہذا اب یہ فیصلہ ہوجانا چاہئے کہ یہ گندم سبسڈی متنازعہ حیثیت کے سبب یہاں کے عوام کا حق ہے یا اس سبسڈی کو صرف اصل قومی حقوق سے دور رکھنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc