قہقہے، جشن، رقص و سرور، نمائندہ ولی فقیہہ اور سرفہ رنگاہ جیپ ریلی۔

اسلام آباد کے حساس ترین مقام پر کلاشنکوف لہراتا ہوا اسکندر میدان میں آیا، میڈیا اور پوری قوم کو کئی گھنٹے یرغمال رکھنے کے بعد ڈرامی طور پر منظر نامے سے غائب ہوگیا اور قوم کوآج تک نہیں پتہ کہ اس کے پیچھے کہانی کیا تھی۔۔۔۔۔۔ کسی بھی واقعے کے پس پردہ پیش آنے والے معاملات کی خبر کم ہی لوگوں کو معلوم ہوتا ہے۔ اس واقعے کے پیچھے جو اہداف ہوتے ہیں وہ منظم سازش بھی ہوسکتی ہے یا اتتفاق ہر دو صورت میں پیش منظر سے زیادہ اہم پس منظر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ حال ہی میں اسکردومیں دنیا کی بلند ترین سطح پر موجود کولڈ ڈیزرٹ پرشاندار کار ریلی کا انعقاد ہوا۔ اس پروگرام کے لیے حکومت سے زیادہ پاکستان کے دوست امریکہ کے اداروں نے معاونت کی۔

سوشل میڈیا پر گنتی کے چند مذہبی افراد نے اس تقریب میں رقص و سرود کی محفل جمانے کی مذمت کی۔ فقیہہ شہر آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بنا رہا۔ قوم پرست تنظیموں اور روشن خیالوں نے اسے خطے کی ترقی کا ضامن بھی قرار دیا۔ حکومتی جماعت تو اسے آنے والی نسل کی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ مجموعی طور پر پوری قوم نے اس پروگرام کو سراہا۔ حد تو یہ ہے کہ وزیر تعلیم بھی اس عظیم کامیابی پر فرط جذبات میں بے قابو ہو کر رقص کر کے داد تحسین وصول کیے۔ دوسری طرف نمائندہ ولی فقیہہ کے پرچم تلے انتخابات میں فتح حاصل کرنے والے مذہبی باپ کے مذہبی بیٹے نے بھی رقص کرکے روشن خیالی کا ثبوت دیا۔ سوشل میڈیا میں اس کی مذمت کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ اس طبقے کو ترقی کے دشمن اور تنگ نظر ثابت کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہی بلخصوص مذہبی طبقے کی خاموشی کے باوجود انہیں نشانہ بنایا گیا۔

میں بھی اس پروگرام کے مختلف پہلووں پر غور کرتا رہا۔ معاشی اور معاشرتی نکتہ نگاہ سے اسے خطے کے لیے نہایت اہم سمجھا۔ لیکن تجسس کا مادہ مجھے سکون سے رہنے نہیں دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کروڑوں روپے جیپ ریلی پر خرچ کرنے والے ادارے یہاں کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے لاکھوں کیوں خرچ نہیں کرتے؟ کیا اس میں سرمایہ کاری کے بعد رقص و سرود ہی مقاصد تھے؟ کیا یہ یہاں کی مذہبی تشخص کو ختم کرنے کی کوششوں کا شاخسانہ تھا؟ یا اس کھیل کے پیچھے کوئی گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔ان سمیت بہت سارے دیگر سوالوں کے جوابات کی تلاش میں تھا کہ باخبر ذرائع نے میرے تمام سوالوں کے جوابات دے دیے۔ اس پروگرام میں یوں کو بہت سوں نے بہت سے مقاصد حاصل کیے ہیں۔ لیکن واضح ہوا کہ جس مقام پر وزیرتعلیم کو رونا چاہیے تھا، اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی کو سر پیٹنا چاہیے تھا، عمران ندیم کو سرفہ رنگاہ کی مٹی سرپہ ڈلانا چاہئے تھا، پوری قوم کو سراپا احتجاج ہونا چاہیے تھا، اس موقع پر جشن منا رہے ہیں۔۔۔۔ اس پہلو پہ نہ کسی نے سوچا اور نہ سوچنے کی توفیق ہوئی۔۔۔۔۔۔

ہوا یہ ہے کہ بلتستان کی زمینوں پر خالصہ سرکار کے نام پر قبضے سے ردعمل آیا اور انتظامیہ سے ممکن نہیں ہوا کہ یہاں کی عوامی زمینوں پر سکھ کے قوانین کی روشنی میں آسانی کے قبضہ کر کے اپنے من پسندوں میں بانٹ دیں۔ اس عمل کے لیے انہیں ایسا خوبصورت طریقہ چاہیے تھا کہ عوام رقص کرے اور خوشی خوشی اپنی زمینوں کو دوسروں میں بانٹ دیں۔ سرفہ رنگا کار ریلی کی آڑ میں شگر کی 24 ہزار کنال زمین پر انتظامیہ کا قبضہ ہوچکا ہے اوراس میں مزید توسیع ہوگا۔ ۔۔۔ اس پر آباد کاری کے لیے قدم رکھنے والے مقامی افراد کو دہشتگردی اور غداری کے مقدمے کے تحت جیل بھیج دیا جائے گا۔ حفیظ الرحمان کی حکومت اتنی سادہ حکومت نہیں کہ وہ تم جیسے ‘‘ تھلے پی غوڈ ’’ اور روندو کے ‘‘خلدبوت’’ کی طرح سوچے، وہ عیار اور مکار انسان ہے۔ ہسپتال، میڈٰیکل اور ٹیکنیکل کالج گلگت میں ایفاد دیامر میں جب کہ جیب ریلی اسکردو میں۔۔۔۔ وائے ہو اس عوام اور نمائندوں کی سوچ پر ہزاروں کنال اراضی پر قبضہ اصل قضیہ تھا۔۔۔ دیامر ڈیم کے نام پر پہاڑوں کے بھی معاوضے اور تمہاری زمینوں پر بغیر معاوضہ قبضہ اور تم جشن مناو، تالیاں بجاو، فتح کے شادیانے بجاو، حکمران چوڑے ہو کر چلو، اخبارات میں بیانات دے دو، اس حماقت پر کہ تم نے اپنی دھرتی پر عوام کا قبضہ چھڑایا ہےاور عارضی آقاوں کو بخش دیا ہے۔ آج بلتستان کے بدخواہ اس حماقت پر قہقہ لگا رہا ہوگا کہ کس طرح انکی زمینوں کو ہتھیاتے وقت انکی عوام اور نمائندوں کو نچایا اور یہ سب بندروں کی طرح ناچتے رہے۔ واضح رہے کہ مجھے ریلی پر کوئی اعتراض ہے اور نہ رقص پر بلکہ اعتراض ہے تو اس کی آڑ میں زمینوں پر ناجائز قبضے پر۔۔۔۔!!! سال میں ایک نہیں ہر ماہ ایک ریلی کرو لیکن عوام کی زمینیں چھین کر نہیں۔۔۔۔۔۔!!!! اس کے خلاف آخر کون بولے گا اور اس ظلم کو کون روکے گا؟ پنجاب کے لوہار بٹ، سندھ کے ڈاکو یا میاں والی کا چھوکرا؟ کب تک ہم وفاقی سیاسی جماعتوں کے شعبدہ بازوں اور متعصب انتظامیہ کے اشارے پر ناچتے رہیں گے۔ اور خطے کے وسائل لوٹتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

عبداللہ گانچھے

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc