برما میں انسانیت کشی، نام نہاد مہذب اور اسلامی ممالک کی خاموشی….! تحریر | محمد تقی لیوان

انسان کی تہذیب و تمدن جس قانون پر قائم ہے اس کی اولین شق یہ ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون ہر چیز سے محترم ہے.
انسانی بنیادی حقوق میں اولین حق، حق زندگی ہے، یعنی زندہ رہنے کا حق، دنیا کے تمام مذاہب، شریعتعوں، مہذب قوانین میں احترام زندگی اور حق زندگی کے اصول موجود ہیں. جو قانون یا مذہب یہ اصول تسلیم نہ کرے وہ نہ تو مہذب انسانوں کا مذہب یا قانون ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایسی مذہب یا قانون کے ماتحت انسانی زندگی ممکن ہے. اگر انسان کی جان کی قیمت نہ ہو، اس کا احترام نہ ہو اور انسان کی زندگی کی حفاظت کا کوئی بندوبست نہ ہو تو انسانی معاشرے کی تشکیل اور بقا ممکن نہیں ہے.
تاریخ بشریت انسانیت سوز واقعات سے بھری پڑی ہے. جہاں انسانی جان کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی. عرب کے خون خوار اور درندگی کے واقعات تو ہم نے بہت سنے اور پڑھے ہیں. اسی طرح روم کے کولوسیم کے افسانے آج تک تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں جس میں ہزاروں انسان شمشیر زنی کے کمالات اور رومی امراء کے شوق تماشا کے نذر ہو گئے.
مہمانوں کی تفریح یا دوستوں کی تواضع کے لئے غلاموں کو درندون سے لڑانا یورپ اور ایشیاء کے اکثر ممالک میں عام تھا. یونان اور روم میں اسقاط حمل ناجائز فعل نہ تھا. والد اپنے اولاد کے قتل کا حق رکھتا تھا. شوہر کے لئے اپنی بیوی کا قتل معیوب نہ تھا. ہندوستان مین ستی کا رسم قانون کا درجہ رکھتی تھی جس میں مردہ شوہر کی لاش پر زندہ عورت کو جلا دیا جاتا تھا. شودر کی جان کی کوئی قیمت نہ تھی اس کا خون برہمن کے لے حلال اور جائر تھا. جل پروا کی رسم عام تھی جس کے مطابق ماں باپ اپنے پہلے بچے کو دریا گنگا کی نذر کر دیتے تھے. اور اس سے اپنے لئے موجب اور سعادت سمجھتے تھے. لیکن آج مہذب دنیا کے قوانین میں حرمت خون اور احترام زندگی کو ایک اہم مقام حاصل ہے.
اسلام ایک انسانی جان بچانے کو پوری انسانیت بچانے اور ایک انسان کی ہلاکت پوری انسانیت کی ہلاکت سے تشبیہ دے کر احترام انسانیت، بقائے انسانیت اور تحفظ انسانیت کا درس دیا ہے اور انسانیت کش سوچ اور سفاکانہ رویہ کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے منع فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ ظالم کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوم کے ساتھ دینے کو دینی فریضہ قرار دیا ہے.
آج ایک بار پھر برما میں انسانیت دہکتے انگاروں میں جل رہی ہے. انسانوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے. خواتین اور بچوں کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے. سن ۲۰۱۲ سے برما میں وحشت ناک، خوفناک، اور انسانیت کش صورت حال نے انسانیت کے پرخچے اڑا دیے ہیں. برما میں نہتے انسانوں پر دہشت گردوں اور اسٹیٹ آرمی اور پولیس کے مظالم دیکھ کر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ماضی میں کبھی کسی پر اتنی سفاکیت سے ظلم و ستم نہ ہوا ہوگا. ان پر ہماری تصور سے ہزاروں گنا زیادہ ظلم و ستم ہو رہا ہے. معصوم بچوں اور عورتوں کے جسم کے اعضاء کاٹ کاٹ کے پرندوں اور درندوں کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے. برما کے مسلمانوں پر اسٹیٹ آرمی اور پولیس بدھ مت درندوں کے مظالم کی ویڈیو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان میں صرف شکل انسانوں والی ہے باقی اندر سے درندے ہیں. انسانیت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے.
برما میں مسلمانوں پر ۲۰۱۲ میں اس وقت سے باقاعدہ حملے شروع ہوگے. اس وقت کوفی عنان کی صدارت میں قائم اراکانی ایڈوانزری کیمشن نے ۲۳ اگست کو میانمار حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی. جس کے تحت میانمار کی مسلم آبادی کے لئے بنیادی حققق کی فراہمی کا باقاعدہ مطالبہ کیا گیا. اس رپورٹ کی اشاعت کے چند گھنٹے بعد سیکورٹی فورسسز پر حملے شروع ہو گئے. میانمار حکومت اس رپورٹ کو تسلیم کر کے بنیادی حقوق دینے کے بجائے ان حملوں کو جواز بنا کر باقاعدہ پلاننگ کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری و ساری ہے. ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق برما میں بدھ مت دہشت گردوں نے ۵ روز میں ۱۰۰ کلو میٹر پر مشتمل مسلم آبادی صفحہ ہستی سے مٹا دیا. ایمنسٹی کی طرف سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے ہے کہ ۵ روز میں ۲۱۰۰ سے زائد دیہات مسلمانوں سمیت جلا دئے گئے. ۱۰ ہزار افراد بھاگتے ہوئے مارے گئ ۱۵۰۰ سے زائد خواتیں کی عصمت دری کے بعد فوج میں تقسیم کر دیا گیا. ایک لاکھ تیس ہزار افراد شدید زخمی ہیں. ایک لاکھ جنگلوں میں محصور ہیں. بیس ہزار افراد سمندری کشتیوں میں بٹھکنے پر مجبور ہیں. آئندہ دس دنوں میں کسی ملک نے مداخلت نہ کی تو اموات میں لاکھوں کا اضافہ ہو سکتا ہے فوری طور پر امن فوج بھیجی جائے. یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو ایمنسٹی نے اپنے ذریعے سے حاصل کی ہے. لیکن حقیقت میں انسانی جانوں کا نقصان اور انسانیت کی تذلیل و بے حرمتی اس سے کہیں زیادہ ہو رہی. اس انسانیت سوز حالات کو وہاں کے بےیارو مددگار مسلمان ہی محسوس کر سکتے ہیں .
ان انسانیت کش ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسی خاموش ہیں جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں. اور مسلم حکمران اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں. کوئی بھی مسلم ملک میانمار حکومت کے خلاف میدان میں آنے کیلے تیار ہی نہیں مسلم ممالک اپنے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام کا نعرہ لگاتے ہیں. جہاں انہیں مادی یا دنیوی فائدہ ہو. اسرائیل اور امریکہ مخالف نعرے لگا کر محض اپنے ملکی مفادات کی تحفظ کو مقدم رکھتے ہیں. اگر انسانیت اور اسلام کو مقدم رکھتے تو آج برما کے مسلمانوں پر اتنا ظلم نہیں ہوتا.
برما کے نہتے مسلمانوں سے مسلم ممالک کو کوئی مادی یا دنیوی مفاد وابستہ نہیں ہے اسلئے ان کے حق کے لئے میدان میں آنا فرض نہیں سمجھتے. حکومت پاکستان اور پاکستانی تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ فرقہ پرستی اور عرب و عجم پرستی چھوڑ کر بقائے انسانیت کے لئے برما کے مسلمانوں کے حق میں برمن حکومت پر زور ڈالیں اور حرمت انسانیت کے لئے برمی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کریں.

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc