سکردو روڈ کا چورن اور حکومت کی دیگر ذمہ داریاں۔۔

گلگت سکردو روڈ کا بننا بلتستان کے عوام کا بنیادی حق ہے لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں کی نااہلی کے سبب آج تک اس بنیادی حق سے محروم رکھ کر کئی سو انسانوں اور عوامی املاک کو نقصان پونچا وہیں یہ روڈ دفاعی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سڑک کے نہ بننے کے پیچھے جہاں بہت سے عوامل کارفرما ہیں وہیں بلتستان سے منتخب عوامی نمائندوں کی ناکامی بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔ اس سڑک کی تعمیر کے نام پر مشرف دور سے لیکر نواز شریف تک کے سفر میں عوام سے وعدے کرکے سے ووٹ حاصل کرتے رہے ہیں لیکن پچھلے ادوار میں عوام سے کئے گئے وعدوں پر کوئی خاطر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ بالآخر کفر کفر ٹوٹا خدا کے مصداق کئی بار افتتاح اور ٹینڈر کی شور شرابے کے بعد اب امید کیا جارہا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے حوالے سے لے آوٹ میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ایف ڈبیلو او کی جانب سے باقاعدہ کام شروع کیا جارہا ہے۔ لیکن اس سڑک کی ٹینڈر سے لیکر کام شروع ہونے تک کے مراحل میں جی جی بریگیڈ کے مقامی ملازمین کے نجی کارکنوں کا نااہل نواز شریف کی تعریف میں آسمان زمین ایک کردینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے اس سڑک کی تعمیر کیلئے فنڈز سرکاری خزانے سے نہیں بلکہ بلتستان کے عوام کو اتفاق فانڈری ، نیلسن کمپنی، عزیزیہ اسٹیل سے زکواۃ اور صدقہ یا میٹرو کے کمیشن میں سے کچھ حصہ دیا جارہا ہے۔تخت رائیونڈ کے کچھ ذہنی ملازمین سادہ لوح عوام کو نوید سنا کر بادشاہ سلامت کی سلامتی اور دوبارہ پاکستان کا بیڑا غرق کرنے کیلئے بحال ہونے کی دعا ئیں مانگ رہے ہیں۔حالانکہ اس سڑک کو آج سے دہائیوں پہلے بن جانا تھا کیونکہ گلگت بلتستان کی متازعہ حیثیت کے پیش نظر عوام کو بنیادی سہولت فراہم کرنا بطور منتظم حکومت پاکستان کی قانونی ذمہ داریوں میں شامل ہیں لیکن یہ باتیں کرنے کیلئے بھی قومی درد اور جرات مند لوگ چاہئے ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں چونکہ قحط الرجال ہیں۔ لہذا کچھ افراد کا عہدہ جسے مقامی زبان سیاست دان کہتے ہیں انہوں نے کبھی عہدے پر عوام کو فوقیت نہیں دیا جس کے سبب یہ سڑک گزشتہ دہائیوں سے ایک طرح سے موت کا کنواں بنا ہوا ہے۔آج اگرملک کے فیصلہ سازوں نے محسوس کیا کہ یہ سڑک بھی بن جانا چاہئے تو نااہل نواز شریف کا کارنامہ سمجھ کر شادیانا بجاتے ہوئے احمقوں کی دنیا میں رقصاں لوگوں کی سوچ پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے جو روڈ کی تعمیر سے پہلے اس سڑک کا نام نواز شریف ایکسپریس وے رکھنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے حوالے نااہل نواز شریف کے خدمات ریکارڈ پرہیں کہ تخت راؤنڈ کے بادشاہوں نے کبھی بھی گلگت بلتستان کی تعمیر ترقی کے حوالے سے کوئی مثبت قدم نہیں آٹھایا آج اگر دو مولویوں کی لڑائی میں مرغی حلال کے مصداق انکو گلگت بلتستان پر حکومت کرنے کا موقع ملا ہے تو گلگت بلتستان میں ایک بے چینی کا سماں ہیں، عوام پہلے سے ذیادہ تذبذب کے شکار اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وزیراعلیٰ اور اسکے حواریوں کی جانب سے کبھی گلگت بلتستان کو تقسیم کرنے کی باتیں تو کبھی انکا مطالبہ آذار کشمیر میں ضم کرنے یا عبوری اور خصوصی وغیرہ وغیرہ کے نعروں نے نئی نسل کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہوا ہے کہ آیا ہماری اپنی بھی کوئی تاریخی شناخت ہے یا ہم دوسروں کے رحم کرم پر شناخت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟۔ صرف یہ نہیں بلکہ سی پیک سے لیکر مردم شماری میں گلگت بلتستان کی تاریخی اور قدیمی زبانوں کو نظرانداز کرنے اور اب مردم شماری میں غیر متوقع اورانسانی عقل کو حیران کرنے دینے والی رزلٹ نے اس خطے کے عوام کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں جو بھی لوگ مقامی حکومت کے خلاف منہ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں اور حقوق گلگت بلتستان دستور پاکستان اور اقوام متحدہ کی چارٹرڈ کے مطابق دینے کی بات کرتے ہیں حکومت کی جانب سے اُن پر غیرقانونی دفعات لگا کر ہراساں کیا جاتا ہے ۔ اگر ہم مقامی صحافت کی بات کریں تو صحافت کے نام پر اخباری دوکان کھول بیٹھے لوگوں کی نگاہیں صرف محکمہ انفارمیشن کے ڈی ڈی کی دفتر پر نظر آتا ہے یہی وجہ ہے جس ڈی ڈی کو کل شکایت کرکے فارغ کروایا آج وہ اپنے اثررسوخ کی بنیاد پر دوبارہ بحال ہو گئے ہیں تو صحافیوں خاص طور پر اخبار مالکان اُن کے آگے دھمال ڈالتے نظر آتے ہیں۔ آذاد صحافت حالانکہ متازعہ خطے کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے مندرجات میں شامل ہیں لیکن یہاں صحافت کے نام پر صحافتی اقدار کی اس قدر پامالی کی جارہی ہے جسکا اندازاہ لگانا بھی مشکل ہے اور راقم چونکہ مقامی صحافت کے حوالے ذرا مختلف نظریہ رکھتے ہیں جو کہ مقامی صحافیوں کو بلکل ہی ناگوار گزرتا ہے یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر راقم کے خلاف ایک لابی جو اپنے نام کے آگے صحافی لگاتے ہیں لیکن عملی میدان میں اُنکا صحافتی کردار لفظ صحافت کی حرمت کو بھی شرمسار کرتے نظر آئے گا، مسلسل منفی پروپگنڈے کرتے نظر آتا ہے۔اس موضو ع زندگی نے ساتھ دیا تو پھرکبھی دل کھول کر لکھوں گا۔ ابھی ذرا سکردو روڈ کی تعمیر کے حوالے سے حکومتی ڈھولک کا ذکر کریں تو ڈھولکی بجانے والوں سے ہاتھ جوڑ کرالتجاء ہے کہ اس سڑک پر سیاست کرنا چھوڑ دیں کیونکہ یہ سڑک اگر بن جاتے ہیں تو کسی کا احسان نہیں بلکہ شدید عوامی احتجاج پر غضب شدہ عوامی حقوق کا دیر سے حاصل ہونا ہے۔ لہذا عوام کو چاہئے کہ ایسے افراد کو مسترد کریں اور اگلے مرحلے میں کرگل سکردو روڈ،تورتک خپلو اور استور گریز روڈ کی بحالی کیلئے کوشش تیز کریں کیونکہ مظفرآباد سے سری نگر لاہور سے امرتسر دوستی بس سروس چلتا سکتا ہے تو گلگت بلتستان کے منقسم خاندانوں کا جرم کیا ہے؟ ۔ آخر میں ایک بار پھر عرض یہ ہے کہ سکردو کسی کے خالہ جی کا صدقہ نہیں بلکہ عوام کا حق ہے اس حق کی حصول کیلئے بلتستان کے عوام نے ایک طویل جدوجہد کی ہے جسکا کریڈٹ یہاں کے عوام کو جاتا ہے نہ ہی تخت راؤنڈ کے بادشاہوں اور انکے مقامی چمچوں کو۔ اللہ ہم سب کو سچ اور حق بات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc