ایس پی گانچھے کا خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے معاملہ کی ڈراپ سین۔ معاملے کو سیاسی اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش بھی کی گئی۔

گانچھے( نامہ نگار) بائیس اگست کو مرضی گوند کے مقام پر ایس پی گانچھے عبدالرحیم کی جانب سے مقامی خواتین سے چھیڑ چھاڑ کی خبر مقامی اخبارات میں لگنے کے بعد ایک طوفان کھڑا ہوگیا اوراُن کے خلاف ادارتی سطح پر انکوائری کیلئے اُنہیں معطل بھی کیا گیا تھا۔لیکن تمام الزامات اُس وقت دم توڑ گئی جب (این وائی ایف) کے مرکز نے اس حوالے سے ایک فیصلہ نامہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سب غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا تھا اور گاوں کے عورتوں کی سادہ لوحی کے سبب عوام نے اس معاملے کی جانچ پڑتال کئے بغیر شور شرابا کیا۔ این وائی ایف کے مطابق ایس پی معمول کی ڈیوٹی پر جب مرضی گوند کے مقام پر پونچے تو کھیتوں میں کام کرنے والی کچھ خواتین نے انکا اسلحہ گاڑی سے باہر دیکھ کر ڈر کے مارے شور کرتی ہوئی محلے کی طرف بھاگ گئی اُس معمولی سی بات کو مخالفین نے انتقام کے طور پر استعمال کیا اور ایک ذمہ دار اور فرض شناس آفیسر کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔
یاد رہے اس معاملے کو خلیجی ممالک کے مدرسوں میں زیر تعلیم گلگت بلتستان کے کچھ لوگوں نے فرقہ واریت کی رنگ دیکر ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش بھی سوشل میڈیا پر کیا جارہا ہے جیسے بلتستان میں خاص مکتب فکر والوں کے ساتھ جان بوجھ کر ایسا کیا جاتا ہے۔ اور یہ پہلی بار نہیں یہ عناصر اس قسم کے معاملات کو بنیاد بنا کر ہمیشہ بلتستان میں مذہبی مسلکی رواداری کو پاش پاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا اس معمالے کی چھان بین ضروری ہے اگر مقامی میڈیا کی جانب سے اس حوالے سے غلط رپورٹینگ ہوئی ہے تو اُن پر بھی ہرجانے کا دعویٰ ہونا چاہے۔ اور اُن عناصر کو بھی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو اس قسم کے جرائم کی پشت پناہی کیلئے ہمیشہ مذہب، مسلک اور علاقائت کا پتہ استعمال کرتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc