پچیس لاکھ کی آبادی سکٹر کر چودہ لاکھ بیانوے ہزار کیسے ہوا ، مردم شماری میں گلگت بلتستان کیساتھ کس نے فراڈ کیا معاملہ تحقیق طلب ہیں۔

اسلام آباد( نامہ نگار) دو ہزار نومیں فری اینڈ ایک فئیرالیکشن نیٹ ورک نامی غیر سرکاری تنظیم کی سروے میں بتایا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کی کُل آبادی 1141970ہے،اُس سروے میں وہ لوگ شامل نہیں تھے جو پاکستان کے مختلف شہروں خاص طور پر کراچی ،لاہور ،اسلام آباد ااور پنڈی میں مقیم ہیں (جنکی تعداد کم ازکم سات لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے) اور وہ لوگ بھی شامل نہیں تھے جو روزگار کیلئے بیرونی ممالک میں مقیم ہیں۔ اُس سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں کُل ووٹر کی تعداد717286  جس میں384909اور عورت کی تعداد 332377تھے۔ اُس سروے کو اگر درست بھی مان لیا جائے توجو نابالغ ہیں ، وہ بھی اسی شرح سے سات لاکھ کے لگ بھگ ہونا چاہئے تھا کیونکہ ووٹر سے مطلب اٹھارہ سال سے زائد عمر والے ہیں ۔ اُس لسٹ میں یقیناًوہ لوگ بھی شامل نہیں ہونگے جو اُس وقت بالغ ہونے کے باوجود قومی شناختی کارڈ نہیں بنوا سکا ہو، کیونکہ گلگت بلتستان میں سہولت کی عدم دستیابی کے سبب اکثر اوقات ضرورت پڑھنے پر ہی لوگ شناختی کارڈ کیلئے کوشش کرتے ہیں۔رپورٹ میں اُن افراد کا بھی ذکر نہیں جواس طرح کے معاملات سے خود کودور رکھتے ہیں۔دوسری طرف حکومتی سطح پر یہی گزشتہ دس سالوں سے یہی سُنتے آرہے ہیں کہ اس خطے کی آبادی تیرہ لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔جبکہ ویکپیڈیا کے مطابق 2015میں گلگت بلتستان کی آبادی اٹھارہ لاکھ بتایا جارہا ہے،اور گلگت بلتستان کے کئی اہم سرکاری ویب سائٹس پر بھی گزشتہ دس سالوں سے اس خطے کی آبادی بارہ لاکھ پچاس ہزار سے ذیادہ بتایا جارہا ہے۔
اگر 2009کے غیر سرکاری سطح پر ہونے والے سروے میں ووٹر ز کی تعداد کے بنیاد پر ہی بات کریں تو اُس وقت گلگت بلتستان کی آبادی چودہ لاکھ کے لگ بھگ ہونا چاہئے تھا لیکن آج دو ہزار سترہ میں اس خطے کی آبادی چودہ لاکھ بیانوے ہزار ہونا مضحکہ خیز ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ اس حوالے سے تحقیق کریں کہ ٹیکنیکل غلطی کہاں ہوئی ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc