سکردو پنڈی روڈ کیلئے کانوائی کے نام پر ٹرانسپورٹ اور ہوٹل مافیا اتحاد ،مسافرین کا جینامشکل ہوگیا۔

سکردو( نامہ نگار) گلگت بلتستان کے عوام کیلئے پنڈی سے یا پنڈی کیلئے سفر کرنا راستے میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے ایک پیچیدہ مسلہ بنا ہوا ہے۔ سیکورٹی کی مخدوش صور حال کے سبب آنے اور جانے والے تمام گاڑیوں کو کانوائی کی صور ت میں لایا اور لے جایا کرتے ہیں۔اس وجہ سے چوبیس گھنٹے کی سفر کیلئے اکثر اوقات چالیس گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان عوام کیلئے بائی روڈ سفر کرنا موت کو گلے لگا کر سفر کرنے کے مترادف ہیں دوسری طرف فضائی سفر بھی یہاں کے عوام کیلئے ایک امتحان سے کم نہیں۔ وہ تمام لوگ جو سکردو سے پنڈی سفر کرتے ہیں اُن کیلئے مقامی ٹرانسپورٹرز نے اپنی طرف سے شام چار بجے کا وقت فکس کیا ہوا ہے یہ تمام گاڑیاں رات کے بارہ بجے جگلوٹ پونچ جاتی ہے۔
جگلوٹ میں ایک تو ہوٹل کا مناسب انتظام نہیں دوسری یہاں گرمی سردی دونوں سخت کی پڑتی ہے،لیکن مناسب ہوٹل کا انتظام نہ ہونے کے سبب اکثر اوقات فیملیز کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یوں بوجہ مجبوری مسافرین کو ایسے ہوٹلوں میں قیام کرنا پڑتا ہے جہاں نہ پانی کی سہولت ہے نہ ہی اچھا کھانا ملتا ہے اور نہ رات کو سونے کیلئے مناسب انتظام لیکن یہاں قیام طعام کے مد میں تھری سٹار ہوٹل کے برابر پیسے لیتے ہیں۔ صرف یہ نہیں بلکہ مختصر وقت گزارنے کیلئے کھانا بھی زبردستی پیش کیا جاتا ہے جوکہ مسافرین کے اوپر ظلم ہے۔ لیکن بس ڈرائیورز یہاں باقاعدہ مہمان نوازی کے طور پر اچھے کھانے اور سگریٹ تک مفت میں پیش کرتے ہیں۔

عوامی نمائندوں نے چونکہ اپنے مفاد کیلئے آنکھیں بند کی ہوئی ہے لہذا چیف سکرٹیری کو چاہئے کہ اس اہم ایشو پر نوٹس لیں اور سکردو سے پنڈی جانے والی بسوں اور ویگنوں کو شام چار بجے کے بجائے رات بارہ بجے کا وقت مقرر کریں تو مسافرین کیلئے پیسوں کی بچت کے ساتھ پریشانی اور وقت کے ضیاع کا بھی مسلہ حل ہوسکتا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc