چلاس کا علاقہ رائیکوٹ مٹھاٹ ،تھور اور گیس پائین کے بالائی علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے چیڑ،دیار،اور صنوبرکے،سینکڑوں درختوں کو مشین کے ذریعے زمین پر گرا دیا ہے۔محکمہ جنگلات کے حکام خواب خرگوش کے نیند میں مدہوش۔

چلاس(نامہ نگار) تحصیل چلاس کا علاقہ رائیکوٹ مٹھاٹ ،تھور اور گیس پائین کے بالائی علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے چیڑ،دیار،اور صنوبرکے،سینکڑوں درختوں کو مشین کے ذریعے زمین پر گرا دیا ہے۔محکمہ جنگلات کے حکام خواب خرگوش کے نیند سوئے ہوئے ہیں ۔عمائندین گوہر آباد،تھور اور گیس پائن جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی پر سیخ پا ہیں ۔عمائندین نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے اور ٹمبر مافیا کے خلاف ایکشن لینے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے ۔محکمہ تحفظ جنگلات بھی جنگلات کی کٹائی پر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہوا ہے۔مقامی افراد بھی جنگلات کی بے دریغ غیر قانونی کٹائی پر سراپا احتجاج ہیں۔مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کی خاطر فاریسٹ گارڈز بھی موجود ہیں جو اپنی ذمہ داریوں سے جی چرا رہے ہیں۔اور جنگلات کے تحفظ کی دعویدار این جی اوز بھی منظر عام سے غائب ہیں۔مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ محکمہ فاریسٹ کے پاس جنگلات کٹائی روکنے اور سزائیں دینے کے اختیار کے باوجود جنگلات کی سر عام کٹائی کرنا نہ صرف قانون کی رٹ کو للکارنا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو پھیلانا اور سیلاب سے تباہ کاریوں کو دعوت دینا بھی ہے۔ حکام بالا فوری طور پر نوٹس لے کر دیامر میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائیں تاکہ جنگلات کی مزید کٹائی رک سکے۔ضلع دیامر میں جنگلات کی کٹاو سے ڈی فارسٹیشن کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے ،حکومت کو چاہے کہ وہ غیر قانونی جنگلات کی کٹائی روکے ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc