تھور اور ہربن حدود تنازعہ ایک پھر شدت اختیار کر گیاقبائل کے مابین فائرنگ،حالات کشیدہ۔

چلاس(عمرفاروق فاروقی)تھور اور ہربن حدود تنازعہ پھر شدت اختیار کر گیا ۔شیطن نالہ کے قریب دونوں قبائل کے مابین فائرنگ جاری،حالات کشیدہ ہونے سے دونوں قبائل پھر سے مورچہ زن ہوگئے ہیں ۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق تھور کا علاقہ شیطن نالہ سے ہربن کے درجنوں مسلح افراد نے دن دیہاڑے تھور سے تعلق رکھنے والے مولوی صدر کے سینکڑوں مویشوں کوہربن لیکر جارہے تھے کہ تھور کے لوگوں اور ہربن کے مسلح افراد کے مابین فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ،دونوں قبائل کے درجنوں مسلح افراد کے مابین گھنٹوں فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور دونوں قبائل کے مزید لوگ بھی شیطن نالہ کی طرف روانہ ہوگئے اور اس وقت دونوں قبائل کے مسلح افراد مورچہ زن ہیں ۔آخری اطلاعات تک دونوں طرف سے کسی قسم کی جانی نقصان کا اطلاع نہیں ہے تاہم تھور کے لوگوں نے ہربن کے مسلح افراد کے قبضے سے مویشوں کو چھڑانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ادھر دیامر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوچکی ہے ۔یاد رہے تھور اور ہربن حدود تنازعہ میں دو سال پہلے دونوں طرف ۵ سے زائد قمیتی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور حالیہ دنوں ایک مرتبہ پھر حدبندی تنازعہ نے سر اُٹھایا ہے ۔گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کے حکومتی زمہ داروں کو چاہے کہ وہ اس حساس معاملے کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ورنہ یہ حدود تنازعہ کسی بھی وقت سینکڑوں انسانی جانوں کی ضائع ہونے کا موجب بن سکتا ہے ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc