تازہ ترین

وزیراعظم کے زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کےاجلاس سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے تحفظات کے باعث واک آؤٹ کیا۔ گلگت بلتستان کا ذکر بھی نہیں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے تحفظات کے باعث واک آؤٹ کیا۔ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی شرکت کی۔ صوبوں کے سالہ بجٹ اور ترقیاتی پروگراموں پر تحفظات کے باعث سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ واک آؤٹ کے بعد تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کو منظور نہیں کیا گیا، پنجاب کو تمام صوبوں سے زیادہ ترقیاتی فنڈز دیے جاتے ہیں اور چھوٹے صوبوں کا بالکل بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ہم نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا، ہم نے جاری منصوبوں پر مزید فنڈ رکھنے کا کہا ، چاروں صوبوں کو برابری کی سطح پر فنڈز دینے کا کہا، وفاقی حکومت مئی میں ختم ہوری ہے، انہوں نے کہا کہ این ای سی آئینی ادارہ ہے، سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے، اس ادارے کے 13ممبر ہوتے ہیں، آج کے اجلاس میں 13میں سے 9لوگ موجود تھے، سی سی آئی اجلاس میں واٹر پالیسی پر اعتراضات سامنے آئے ،وزیر اعلیٰ پنجاب آج اجلاس سے چلے گئے، وزیر اعلی پنجاب کی غیر موجودگی میں پی ایس ڈی منظور کرانے کی کوشش کی گئی، وزیر اعلیٰ پنجاب کی غیر موجودگی میں پی ایس ڈی کی منظوری سے انکار کیا، انہوں نے کہا کہ  اس لیے ہم نے اجلاس سے واک آئوٹ کیا، ہماری غیر موجودگی میں کورم ٹوٹ گیا اگر کچھ ہوا تو وہ غیر آئینی تھا، وزیر اعلی خٰبر پختونخواہ پرویز خٹک نے کہا کہ ہماری سفارشات کو تسلیم نہیں کیا گیا، ہم نے اجلاس میں کہا کہ انصاف نہیں کیا جا رہا ، کسی کو اگلی حکومت کا بجٹ بنانے کا حق نہیں ہم نے بڑی مشکل سے وفاق سے اپنا حق لیا، ترقیاتی بجٹ میں مرضی کے منصوبے شامل کر رہے ہیں ، وفاق سے اپنا حق لڑ کر لے رہے ہیں ، وزیر اعلی بلوچستان عبد القدوس نے کہا کہ وفاق کی جانب سے مرضی کی اسکیمیں دی گئیں ، جہاں ہماری بات کی کوئی اہمیت نہیں وہاں بیٹھنے سے کیا فائدہ، حکومت کو چھٹا بجٹ پیش نہیں کرنا چاہیے، جو ڈرافٹ پیش کیے گئے ان میں نئی اسکیمیں نہیں تھیں۔

  •  
  • 18
  •  
  •  
  •  
  •  
    18
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*