تازہ ترین

استور ویلی روڈ پر کام انتہائی ناقص ، خشک دیواریں بنائی جارہی ہے، محکمہ ورکس استور خواب خرگوش کی نیند سو رہا ہے۔ مولانا سمیع

استور(بیورو رپورٹ)استور ویلی روڈ پر کام انتہائی ناقص ہورہا ہے خشک دیواریں دی جارہی ہے محکمہ ورکس استور خواب خرگوش کی نیند سو رہا ہے۔بلسٹنگ کرکے جو ملبہ گرایا گیا ہے اسی کے اور سایٹ پر خوشک دیوریں بنارہے ہیں جو روڈ کے مکمل ہونے سے قبل گرنے کا خدشہ ہے چیرمین سیاسی امور گلگت بلتستان و سابق امیر جماعت اسلامی گلگت بلتستان مولانا عبدالسمیع ۔انھوں نے مزید کہا کہ ایسے روڈ حکومتیں روزنہ کی بنیاد پر نہیں دیتی ہے صدیوں بعد ایسے میگاہ پروجیکٹ ملتے ہیں استور ویلی روڈ جہاں ایک طرف استوری قوم کی موت اور زندگی کا مسلہ وہی پر دفاعی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے استور ویلی روڈ پر محمکہ تعمیرات کی عدم دلچسپی کے باعث انتہائی ناقص تعمیری حربوں کا شکار ہے پوری گلگت بلتستان کے کسی پروجیکٹ میں کہیں ایسی خوشک دیوریں نہیں بنائی گیی ہیں جس قسم کی خوشک دیوریں استور ویلی روڈ پر بنائی گیی ہیں استور ویلی روڈ پر صرف ایک ہی ڈوزر کام کررہا ہے اگر اس رفتار سے کام کیا گیا تو مزید ایک سال صرف بلسٹنگ میں لگے گا ضروت سے زیادہ تعریفیں کرنے کے نتیج میں ٹھیکدر نے کام کا تیس نیس کیا ہے اور پورے روڈ پر صرف ایک ہی ڈوزر اور دو چار قلی کام کررہے ہیں ویلی روڈ کا کام انتہائی سست ہورہا ہے وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان فورس کمانڈر واقعے کا فوری نوٹس لیں استور ترقیاتی بیمار پروجیکٹس کا قبرستان بنا ہوا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے استور میں لوڈ شڈنگ سے نظام زندگی بری طرح مفلوج ہوچکا ہے محکمہ برقیات کی نااہلی کے باعث عوام اندھروں میں ڈوب گیی ہے استور لوس پارو ہاوس سے گزاشتہ دونوں بجلی کے انجن کو ہنزہ لے کر گیے ہیں اورجبکہ استور میں پہلے سے لوڈشڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اب تو مکمل بجلی غائب ہے جس انجن کو ایک ہفتے کے لیے ہنزہ لے جانے کی باتیں کرنے والے دو ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر گیا ہے اس کو واپسی کیوں نہیں لاتے ہیں استوری قوم کے ساتھ چند سرکاری ادروں نے بہت مذاق کیا ہے اب یہ مذاق نہیں چلے گا عوام اپنے حقوق کے لیے میدان میں اترے گی استور کالج کے لیے باقاعدہ پی سی فور کے تحت خریدی جانے والی انٹر کالج کی بس کو کسی اور ضلعے میں منتقل کرنا استوری قوم کے ساتھ ناانصافی ہے استوری قوم کا مزید امتحان نہیں لیا جائے جو لوگ امن کے داعی ہیں اور امن کے لیے خاموش ہیں تو اس مامطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اپنے حق کے لیے بھی خاموش رہیں گے اگر حکومت گلگت بلتستان اور متلعقہ محکمے فوری طور پر نوٹس لے کر ان مسائل کو حل نہیں کرتے ہیں تو ہمیں مجبورً عوام سطح پر احتجاجی تحریک چلانا ہوگا اسے قبل کی ان مسائل پر نوٹس لیے ہوئے حل کریں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*