تازہ ترین

ایک اور مسلم ملک پر امریکی جارحیت شروع، امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نےملک شام پر حملہ کردیا۔

اسلام آباد ( نیوز آن لائن )امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے شام پر حملہ کردیا جس سے دارالحکومت دمشق زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی حکومت کی جانب سے اپنے عوام پر ہونے والے کیمیائی حملوں کے جواب میں امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر میزائل حملے کیے ہیں۔ بی ون بمبار سمیت متعدد لڑاکا طیاروں اور بحری جنگی جہازوں نے اس مشن میں حصہ لیا اور شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر میزائل فائر کیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اتحادی افواج نے شامی فوج کے سائنسی تحقیقی مراکز، متعدد فوجی اڈوں اور چھائونیوں پر ٹام ہاک کروز سمیت مختلف طرح کے میزائلز داغے ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دمشق میں 6 زوردار دھماکے سنے گئے اور کئی مقامات سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے۔ شامی حکام نے بتایا کہ امریکی حملے میں تقریبا 30 میزائل داغے گئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ روس کی اطلاعات پر ان فوجی تنصیبات کو کئی روز پہلے ہی خالی کرالیا گیا تھا، جب کہ مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔ امریکا کے چیئرمین جوائنٹس چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے بتایا کہ شام میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں دمشق میں واقع کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیار بنانے والا سائنسی تحقیقی مرکز، حمص شہر کے جنوب میں واقع کیمیائی ہتھیاروں کا گودام اور حمص کے قریب ہی واقع ایک اور کیمیائی آلات کا گودام و اہم کمانڈ مرکز شامل ہیں، حملوں سے متعلق روس کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں کی گئی اور امریکا نے ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جہاں روسی افواج موجود نہیں تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ آپریشن کیا جارہا ہے، اس کارروائی کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری، پھیلائو اور استعمال کو سختی سے روکنا ہے، ہم یہ کارروائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔ ٹرمپ نے شام کے صدر بشار الاسد کے کیمیائی حملوں کے بارے میں کہا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ شیطان کے جرائم ہیں، میں روس اور ایران سے پوچھتا ہوں کہ کون سا ملک معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل عام میں ملوث ہونا چاہے گا۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بتایا ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے مہذب قوموں کے متحد ہونے کا وقت آگیا ہے، شام پر صرف ایک بار حملہ کیا گیا ہے اور مزید حملوں کا منصوبہ نہیں، اس اقدام کا مقصد شامی صدر بشارالاسد کو سخت پیغام دینا ہے کہ آئندہ کیمیائی حملوں سے باز رہے، پہلا حملہ دمشق میں ایسے سائنسی فوجی مرکز پر کیا گیا جہاں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں پر تحقیق، تیاری اور تجربات کیے جاتے تھے، دوسرے حملے میں حمص کے مغرب میں کیمیائی اسلحے کی ذخیرہ گاہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں سارن گیس تیار کی جاتی تھی۔ شام کے صدر بشار الاسد نے حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ شام کے سرکاری ٹی وی پر جاری کردہ بیان کے مطابق شامی فضائیہ نے دشمن کے 13 میزائلز کو تباہ کردیا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*