تازہ ترین

جانور اور قانون سازی

میں دیہاتی زندگی گزارانے والا سادہ سا انسان ہوں۔قانون سے بلکل نا بلد ہوں البتہ علاقائی رسم و رواج و روایات سے خوب واقف ہوں۔موسم بہار آتے ہی میرے گاوُں کے ہر مکین خوشی سے جھوم جاتے ہے۔موسم بہار کا خوب استقبال کرتے ہے جیسے کوئی میلہ سا سماں ہو ہر طرف خوشی کے گیت اور کاشت کاری کے نغمے سماں باندھ لیتا ہے تو دوسری طرف میرے گاوُں کے جانور پر اداسی چھا جاتی ہے۔چونکہ ان کی قید کے لمحات قریب آتے جاتے ہیں۔یہ ایک رواج ہے یا قانون میں نہیں جانتا کیونکہ میں نے پہلے ہی آپ قارئین کو اپنے قانون سے لا علمی کا اظہار کر چکا ہے راقم قانون سے بلکل نابلد ہے۔قانون کس بلا کا نام ہے جانینے سے بلکل قاصر ہے ۔اصل میں قصور میرا نہیں صاحب میں بے آئین خطے کا باسی ہوں اس لئے قانون جیسی مقدس الفاظ سے ناآشنا ہوں۔بات گاوُں کے رسم۔رواج اور بہار کی آمد اور حیوانات کی قید کے متعلق ہو رہی تھی لیکن بیجھ میں خطہ بے آئین کو لانا مجبوری تھی کیونکہ راقم قانون سے لا علم رہیے اور اس کیلئے کفیاتی میکنزم ترتیب نہ دے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔چلے جی چھوڑئے اصل سبجیکٹ پر آتا ہے جس پر میرے گاوُں کے نمبردار اور سرکردگان قانون سازی کرتے تھےاور کرتےہیں۔جانوروں کا رونا اور پیٹنااس لئے تھا کیونکہ ان کے بنائے قانون سے ان کی آذادی چھین جاتی ہے۔چونکہ اس قانون کے مطابق کوئی بھی شخص اپنے جانوروں کو کھلا نہیں چھوڑ سکتا ہے اگر کوئی بھی شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے جانوروں کو آذاد چھوڑ دیتا ہے تو ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔جو نمبردار و سرکردگان کے مقرر کردہ بندہ ان سے وصول کرتا ہے۔اب بھی یہ روایات گلگت بلتستان کے ہر علاقے میں موجود ہے لیکن پچھلے کئی سالوں سے یہ قانون کمزور ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔جو ایک بہت بڑا سماجی مسئلہ بن رہا تھا۔اس کو میرے گلگت بلتستان کے معزز اور عوامی درد رکھنے والے عوامی نمائندوں نے محسوس کیا اور قانون ساز اسمبلی سے قردار منظور کر کے قانون کا حصہ بنا دیا۔کیونکہ یہ کھلے اور آذاد جانور ایک تو سرسبز کھیتوں کیلئے نقصان دہ تھاتو دوسری طرف خالصہ سرکار پر قابض ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو تنگ کرنا ان کا معمول بن گیا تھا۔اسکولوں میں جا کر اساتذہ اور طالب علموں کو تنگ کیا جاتا تھا جس سے طلبہ و طالبات کے تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہو رہیے تھے۔اور حد تو یہ تھی کہ پاکستان اور ہمارے عظیم دوست چائینہ کے بنائے ہوئے سی پیک منصوبے کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے تھے۔ممبران اسمبلی کی دور اندیشی کو سلام پیش کرتا ہوں آپ لوگوں نے نمبرداروں اور سرکردگان سے اختیارات لے کر بہتر کیا کیونکہ یہ ایک بہت ہی خطرناک سماجی مسئلہ بنتے جا رہے تھے۔اور اس کی وجہ سے گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ روکا ہوا تھا علاقے کے ہر فرد ان جانوروں کی دہشت گردی سے عاجز آچکے تھے۔میں تو کہتا ہوں آپ صرف ان جیسے اہم سبجیکٹ پر قانون سازی کرئے باقی تعلیم،صحت،منرل،ٹیکس آڈپیشن ایکٹ،خالصہ سرکار اور أئینی و قانونی حقوق جیسے غیر ضروری سبجیکٹ پر قانون سازی کرنے کیلئےنمبرداران اور سرکردگان کو سپرد کرے تاکہ قانون پسند و خوشحال گلگت بلتستان کا تصور ممکن ہو سکے۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*