تازہ ترین

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔

عظیم لیڈر , رہنما، بے باک , نڈر , انمول سید حیدر شاہ رضوی کا گلگت بلتستان کیلئے بھٹو , عمران خان، نواز شریف سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے قائدین سے بڑھ کرخدمات ہیں۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں نہ کوئی حیدر شاہ جیسا لیڈر تھا اور نہ آئے گا جو کہ کسی بھی وفاق پرست پارٹیوں کے ساتھ منسلک رہ کر گلگت بلتستان کا سودا نہیں کیا بلکہ سرکاری نوکری بھی نہیں کیا , اعلی تعلیم یافتہ , کراچی یونیورسٹی سے ماسڑز ڈگری ہولڈرز ہونے کے باجود کسی بھی حکومتی مفاد یا نوکری کیلئے نہیں بکا ,بلکہ تحصیلدار کی نوکری کو بھی لاد مار دی اور قوم کی حقوق کیلئے اٹھ کھڑ اہوا۔اس وقت حیدر شاہ یادگار چوک پہ تقریر میں کہا کرتے تھے کہ پورے گلگت بلتستان میں , State Subject Rule, Land reforms, Kashmir Setup , Seats in National assembely and Senat of Pakistan , More districts in GB such as District Shigar and Kharmang اور بہت کچھ لیکن میں یہاں صرف چند اہم اس وقت کے اور کچھ ابھی کے بھی ایشوز کا ذکر کیا جب میں میڑک کلاس میں پڑھتا تھا تو کبھی سوچتا تھا کہ سب ناممکن جیسے کھرمنگ اور شگر کا ضلع بننا , ایک دفعہ تو شاہ صاحب نے شگر , کھرمنگ ضلع کا جنازہ بھی یادگار چوک پہ نکالا تھا۔ اس وقت یہ سب مجھے خود فضول لگتا تھا اور جب وہ اپنی تقریر میں حقوق کی بات کرتا تھا تو عام عوام سہم جاتےتھے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟؟ اور بعض دفعہ اسٹیج پہ موجود انتظامیہ اس کی تقریر سے لا تعلقی کا بھی اظہار کرتے تھے اور بعض حکومتی اہلکار اور مقامی لوگ اس سے راء کا ایجنٹ اور پیسہ کھانے والا پتہ نہیں کیا کیا کہتا تھا ,لیکن میں خود جانتا تھا اس سے وہ پبلک ٹرانسپورٹ پہ سفر کرتے تھے اور نارمل سوٹ پہنتے تھے نہ اس وقت اور ابھی اس کی جائیداد تھے نہ ہے اگر وہ پیسہ کھاتا یا کسی اور کیلئے لڑتا تو اس وقت وہ اپنے اوپر خرچہ نہیں کیا تو اس کے بچے آج دوسرے جاہل خودغرض سیاست دانوں کی طرح V8 ,TZ میں پھر رہے ہوتے وہ سب جھوٹ تھا اور من گھڑت الزامات تھے اور شاہ صاحب کو جب کینسر ہوا تو ان کا آخری لمحہ کراچی میں موحود سرکاری اسپتال میں گزری , باشعور لوگ جاکر حسب استطاعت انکی مدد کرتے تھے آخری وقت میں بھی جب کوئی ان سے ملنے جاتے تھے تو وہ اپنی تمام تکالیف کو بھول کر گلگت بلتستان کی حقوق اور گلگت بلتستان کے حوالے سے بات کرتے ہمارے ملک کے اداروں نے کبھی انہیں چین سے کام کرنے نہیں دیا کبھی اس الزام میں اندر کیا تو کبھی کسی اور الزام میں لیکن شاہ صاحب نے ہمت نہیں ہارا اور اپنے حق کیلئے لڑتا رہا اور شہید ہوگیا اور گلگت بلتستان ایک عظیم رہنماء سے محروم ہوگیا ۔ آج اگر ضلع شگر , کھرمنگ یا دوسرے اضلاع بنے ہیں تو شاہ صاحب کی محنت شامل ہیں شاہ صاحب کی خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ خود پڑھے لکھے تھے اور زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست کے ساتھ منسلک رہے تھے اور ہر چیز کے بارے میں علم رکھتے تھے ایک دفعہ شاہ صاحب الیکشن میں بھی آئے تھے تو اس مردہ ضمیر لوفوں کی وجہ سے چند ووٹ ہی مل سکے تھے جس کو شاہ صاحب خود کہتے تھے کہ اگر میری جگہ ایک غیر مقامی موچی بھی آتے تو شاید اس سے زیادہ ووٹ ملتے خیر گلگت بلتستان میں غیر مقامی موچی اور نائی صرف کام۔کی غرض سے نہیں بلکہ بہت سارے ایجنڈؤں پر بھی کام کررہے ہوتے ہیں چونکہ حفیظ حکومت اور وفاقی حکومت کی نظر مئن شاید گلگت بلتستان میں راء کے ایجنڈ رہتے ہیں اب حکومت پاکستان کو کہنا چاہتے ہیں کہ ہم کسی کے ایجنڈ نہیں ہمیں پاکستانی تسلیم کیا جائے اور دوسرے صوبوں کی طرح حقوق دئیے جائے اور ہماری 70 سالہ محرمیوں کا ازالہ کیا جائے۔

تحریر علی آصف بلتی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*