تازہ ترین

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نواز شریف اور جہانگیرترین تاحیات نااہل،کہیں ماتم کہیں عید۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے کیس میں14فروری کومخفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا ہے اورواضح کردیا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کیلئے صادق اورآمین ہونا لازمی ہوتاہے اورآرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات نااہلی ہوتی ہے ،عدالتی فیصلے کے پیش نظر قبل ازیں نااہل قراردئیے سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف اورجہا نگیرترین تاحیات نااہل ہوگئے ہیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس عمرعطابندیال اورجسٹس اعجازالحسن پرمشتمل چاررکنی لارجربنچ نے پانچ رکنی لارجربنچ کی جانب سے مخفوظ کیاگیا فیصلہ سنایا ،جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث بنچ میں شریک نہ ہوسکے ،چیف جسٹس کی ہدایت پر جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا ،60 صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں کہا گہا کہ جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے اور جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، اس وقت تک متعلقہ فردکی نااہلی بھی برقرار رہے گی، عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت تاحیات پابندی ، کسی سے زیادتی، امتیازی یا غیر معقول فیصلہ نہیں بلکہ امیدوار کی اہلیت پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پابندی عوامی مفاد میں کی جاتی ہے اورآئین میں آرٹیکل 62 ون ایف اس لئے موجود ہے تاکہ دیانتدار، سچے، قابل اعتبار اور دانا افراد عوامی نمائندے بن سکیں عدالتی فیصلہ میں مزید کہا گیاہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا اس طرح اخلاقی جرائم بھی 62 ون ایف کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ اخلاقی جرائم میں دھوکہ دہی، اعتماد توڑنا اور بددیانتی شامل ہیں، عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے حوالے سے پارلیمنٹ نے مدت کا تعین نہیں کیا لیکن آئین میں جہاں نااہلی کی مدت کاتعین نہ کیا گیا ہو، وہاں نااہلی تاحیات سمجھی جاتی ہے، عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ نظرثانی کی درخواستوں کو دیگر بینچز میں سماعت کے لیے مقرر کیا تاکہ طے شدہ اصول کے مطابق میرٹ پر فیصلہ کیا جائے، اس کے ساتھ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے زیرالتوا مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں نااہلی کے معاملے پر 4 مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں سے بھی رہنمائی لی ہے ، جن میں امتیاز احمد لالی بنام غلام محمد لالی کیس، عبدالغفور لہڑی بنام ریٹرننگ افسرصوبائی حلقہ پی بی 29 کا فیصلہ، محمد خان جونیجو بنام وفاق کیس کا فیصلہ اور اللہ دینو خان بھائیو بنام الیکشن کمیشن کا فیصلہ شامل ہے۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کرسناتے ہوئے واضح کیاکہ یہ 5 رکنی بنچ کا متفقہ فیصلہ ہے، تاہم جسٹس عظمت سعید شیخ نے فیصلے کے ساتھ 8 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔ جس میں کہا گیاہے کہ میں اپنے ساتھی جج جسٹس عمر عطا بندیال کے حتمی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں تاہم میں فیصلے کی وجوہات سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا ، انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی بنیاد اسلامی اقدار ہیں ، کیس کی سماعت کے دوران بعض وکلا کی دلیل تھی کہ 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سخت ترین سزا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دلیل پارلیمنٹ میں دی جاسکتی ہے عدالت میں نہیں اور جنہوں نے یہ دلیل دی وہ یا تو پارلیمنٹیرین رہے ہیں یا ترمیم کے وقت ایوان کا حصہ تھے۔ فاضل جج نے اپنے نوٹ میں مزید لکھا ہے کہ آئین سازوں نے جانتے بوجھتے 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا تاہم یہ بالکل واضح ہے کہ سپریم کورٹ آئین میں اضافہ یاکمی کرنے کی مجاز نہیں۔ تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لئے عدالتی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ 6 فروری کو عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں نواز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ کئی متاثرہ فریق عدالت کے روبرو ہیں، وہ ان کے مقدمے کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*