تازہ ترین

وادی طورمک بلتستان کا تعلیمی منظر نامہ!!

وادی طورمک سب ڈویژن روندو کا سب سے بڑا یونین کونسل ہے اس کی آبادی تقریباً ساڑھے پانچ سے چھ ہزار ہے، ، قدرت کے بہت سارے حسین  مناظر اس میں یکجا ہیں ، طورمک ایک خوبصورت سیرگاہ ہونے کےساتھ ساتھ اس کے علمی تاریخ بھی بے مثل وبے مثال ہے۔گرچہ  حکمرانوں کی عدم توجہی کی وجہ سے آج کی اس جدید تعلیمی دورمیں بھی  یہاں معیاری تعلیمی ادارے تونہیں بن سکے مگر علاقے  کے مخلص اساتذہ نے اپنی انتھک کوششوں سے نئی نسل کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت کو جاری رکھاہواہے ۔ اسی لیے خطے میں یہ علاقہ تعلیم کے لحاظ سے کسی دوسرے علاقے سے پیچھے نہیں ہے،اس علاقے نے  پچھلے مختصرعرصے میں متعدد ڈاکٹرز اور انجینئرز پیدا کئے ہیں ، اس کے علاوہ کئی ایک نوجواں نے  دیگر محکموں میں بھی اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہو چکے ہیں۔بنیادی سہولیات کے نہ ہونے کے باوجود  بوائز مڈل سکول طورمک کو ماضی قریب میں  اچھی کارکردگی کی بناپر حکومتی سطح پر انعامات سے بھی نوازا گیا، یہ ادارے کے قابل اور محنت کش اساتذہ کی محنتوں کا ثمرہ ہے، پچھلی حکومت نے اسی مڈل سکول کو ہائی سکول کا درجہ دیااور یہاں نویں اور دسویں جماعت کی کلاسیں شروع  کردی گئی  مگر آج تک سکول میں ابتدائی ضروریات کی چیزیں ناپید ہے، نہ یہاں سائنس لیبارٹری کے سامان ہے، اور نہ کمپیوٹر لیب۔طالب علم دور دراز دیہاتوں سے تقریباً چھ  کلومیٹر زیادہ راستہ  پیدل  سفر کرکے آتے ہیں ان کے لیے ٹرانسپورٹ تک کی سہولت نہیں ہے۔دیگرسہولیات  تودور کی بات یہاں تو پینے کا صاف پانی سمیت بیت الخلاء کا بھی مناسب انتظام نہیں ہے۔طورمک میں شرح خواندگی تقریباً اسی(۸۰) فیصد ہے ، یہاں ہر کوئی اپنی سال کی جمع پونجی میں سے خاصا رقم بچوں کی تعلیم کے لیے بچالیتے ہیں اورزندگی کی دیگر ضروریات پربچوں کی  تعلیم کو مقدم رکھتے ہیں۔پچھلے  سال (۲۰۱۷ء ) اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے تعلیم یونیسیف نے گلگت بلتستان کی تعلیمی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاروں صوبوں کی نسبت گلگت بلتستان میں حصول تعلیم کا رجحان بہتر اور غیر معمولی ہے۔ سروے کے مطابق  گلگت بلتستان مین صرف (۳۱) اکتیس فیصد بچے اسکول نہیں جاتے جو کہ ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت بہت کم تعداد ہے۔ گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ حصول علم کا رجحان ہنزہ میں قرار دیاگیاہے ، جہاں ( ۸۸ )اٹھاسی فیصد لڑکے اور (۸۷) ستاسی فیصد لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں  جبکہ  اسکردو میں (۷۴) چہتر فیصد بچے سکول جاتے ہیں جو کہ ایک خوش آئیندبات ہے۔ وادی طورمک  ضلع سکردو کا دور افتادہ علاقہ ہونے کے باوجود تعلیمی رجحان کافی حد تک  پائی جاتی ہے ، یہاں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہے ۔ علاقے کے سرکردگان اور اساتذہ کی مشترکہ کاوشوں سے واحد گرلزمڈل سکول میں نویں اور دسویں کی کلاسز بھی پڑھانا شروع کیے ہوئے ہیں مگرحکومتی عدم توجہی کی وجہ سے مناسب کلاس روم سمیت تدریسی اور انتظامی عملے کی شدید کمی ہےپانچ سو سے زائد طالبات کے لیے صرف سات اساتید ہیں جو کہ ناکافی ہے، حال ہی میں سینکڑوں طالبات داخلے سے اس لیے محروم رہ گئیں کیونکہ سکول میں ٹیچرز کی کمی تھی۔ بار بار محکمہ تعلیم کو تذکر دینے کے باوجود مطلوبہ عملہ اور ضروریات کا مہیانہ کرنا حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ویسے تو وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم ہر دوسرے روز تعلیمی اصلاحات اور اپنی کارکردگی پر مبنی اخباری بیان جاری کرتے نہیں تھکتے مگر حقیقت میں طورمک گرلز مڈل سکول جیسے سینکڑوں ایسے ادارے ہیں جو حکومتی کارکردگی کااصل چہرہ دکھارہا ہے، جہاں نہ عمارت ہے اور نہ مطلوبہ تعداد میں استاد، ہر مضمون کے لیے مخصوص استاد کو دور کی بات ایک وقت میں  ہر کلاس کے لیے  ایک استادبھی میسر  نہیں ہے، خصوصا سائنس کے مضامین پڑھانے کے لیے استاد نہ ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ حکومت کو چاہئے طورمک جیسے دورافتادہ علاقوں میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرے اور ہر ممکنہ سہولیات مہیا کرے ۔ جب تک طلباء کو مناسب ماحول اور ضروریات نہیں دیں گے اخباری بیان دینے اور پریس کانفریس کرنے سے تعلیمی انقلاب نہیں آئے گا۔

تحریر: سید حسین شاہ

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*