تازہ ترین

بلتستان ریجن میں سیاحت کے خلاف نادیدہ قوتیں متحرک،شہروں میں پروپگنڈہ شروع۔

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) ہر سال موسم گرما کا سیزن شروع ہوتے ہیں پاکستان کے مختلف شہروں سے لاکھوں لوگ گلگت بلتستان کا رُخ کرتے ہیں ۔ اس سال گلگت بلتستان میں 25 لاکھ سے ذیادہ سیاح آنے کا امکان ہے لیکن حکومت گلگت بلتستان اپنے مہانوں کیلئے گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی کوئی خاطرخواہ انتظامات فراہم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ گلگت سکردو اور ہنزہ کے شہری علاقوں کے علاوہ وہ تمام سیاحتی مقامات جو سیاح کیلئے مسحور کُن ثابت ہوسکتا ہے اس سال بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان کے کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں آج بھی ہوٹل کی عدم دستیابی کے سبب سیاح کو مشکلات کا سامنا ہے،اسی طرح کئی ایسے علاقے ہیں جہاں حکومت کی عدم توجہی کے سبب حمام اور کچرا ڈالنے کیلئے ڈرم تک میسر نہیں۔ بلتستان ریجن ملکی اور بین الاقوامی سیاحت کا اہم مرکز ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی سیاح کو بلتستان جانے سے روکنے کیلئے سوشل میڈیا اور مختلف واٹس گروپ اور آن لائن ٹورزم بکنگ کے ذریعے منفی پروپگنڈا کیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ،لاہور اور اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے کچھ ایسے لوگ متحرک ہیں جو مختلف ذرائع سے شہری علاقوں کے عوام کو گلگت بلتستان میں سیاحت کی سروس فراہم کرتے ہیں۔ اُن میں کئی افراد ایسے بھی ہیں جنہوں نے ابھی سے سیاحوں کو کہنا شروع کیا ہے کہ بلتستان ریجن میں سیاحت بہت مہنگا ہے کیونکہ وہاں سہولت کا فقدان نہ ہونے کے ساتھ PTDC کے ہوٹلز کئی ماہ کیلئے بُک ہیں ،شگر فورٹ اور خپلو فورٹ میں عام آدمی کا قیام نامناسب کرایوں کی وجہ سے ممکن نہیں۔ مشہ بروم ہوٹل جو پہلے سیاحوں کو سیاسی اثرروسوخ کا سہارا لیکر تنگ کرتے تھے آج آپس کے اختلافات کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں۔ اسی طرح سیاحوں کو بریف کیا جارہا ہے کہ بلتستان کے بہت سے علاقے وار زون میں آتے ہیں اس وجہ سے بلتستان میں سیاحت دوسرے ضلعوں کی نسبت پیجیدہ ہے۔ اس قسم کے منفی پروپگنڈوں کی وجہ سے اس سال بھی بلتستان ریجن میں سیاحت کو بہت ذیادہ نقصان پونچ سکتا ہے۔ اسلام آباد اور لاہور میں مقیم کچھ سماجی اور طلباء رہنماوں کا کہنا ہے کہ ہمارے اپنے لوگوں کی جانب سے اس قسم کے منفی پروپگنڈوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ اس معاملے میں بلتستان انتظامیہ کو ابھی سے متحرک ہونا پڑے گا اور سیاح کو ہر قسم کے سہولیات کی فراہمی کیلئے بلتستان کے چاروں اضلاع میں اسپشل ٹورزم سپورٹ سیل قائم کرنے کی ضرورت ہے اور مقامی ٹرانسپورٹر کی من مانیوں کو روکنے خپلو اور شگر فورٹ کرایوں کی وصولی کیلئے قانونی میکنزم تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہوٹل PTDC کے ملازمین کی جانب سے سیاحوں کو تنگ کرنے اور ویٹروں کا غیر ضروری طور پر ٹپس وغیرہ مانگنے اور کمرے خالی ہونے کے باوجود کرایہ ذیادہ وصول کرنے کیلئے ہاوس فل کی خبریں سیاحت کیلئے بہت ذیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔لہذا محکمہ سیاحت کو چاہئے کہ اس حوالے سے تحقیق کریں اور سیاح کو کسی قسم کی پریشانی یا مسائل پیدا کرنے والوں کے خلاف کاروائی کریں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*