تازہ ترین

لا علاجوں کی دوا بن جاؤں کیا

غزل

لا علاجوں کی دوا بن جاؤں کیا

جی میں آتا ہے وفا بن جاؤں کیا

پوچھ بیٹھا یے،میری رب نے رضا

نسل آدم کی حیا بن جاؤں کیا

اس قدر رب نے نوازا ہے مجھے

سوچتا ہوں اب خدا بن جاؤں کیا

خود کو چاہت کا دِیا کہتا ہے وہ

ایک لمحے کو ہوا بن جاؤں کیا

مقتدی بھی بد نظر بنتے گئے

لفظ عورت کی ردا بن جاؤں کیا

سائروں نے آج پھر الجھا دیا

میں بھی موسیٰ کاعصا بن جاؤں کیا

حیدری،اس دل لگی کو چھوڑ کر

بے وفا کا،بے وفا بن جاؤں کیا۔۔۔

تحریر: مقبول عالم حیدری

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*