تازہ ترین

مری دھرتی کے منظر بولتے ہیں

شجر یہ سروِ پیکر بولتے ہیں

کہیں کہسار و پتھر بولتے ہیں

سبب لوگوں کی خاموشی کا یہ ہے

مری دھرتی کے منظر بولتے ہیں

کہوں کیسے نہ میں اشعار جمشید !

شمالی مجھ کو اکثر بولتے ہیں

جمشید دکھی

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*