تازہ ترین

شگر کے سیاحتی مقامات اور کھنڈرات سڑکیں۔

رقبے میں بڑا ،خوبصورتی میں سب سے باکمال ،زراعت کے لیے زرخیز اور سیاحت کے لیے اس سے بھی باکمال نوازئیدہ ضلع ،شگر کسی تعریف کے محتاج نہیں یہاں باصلاحیت ،بے باک اور ذہین لوگ رہتے ہیں ایسے زبردست شخصیات اس علاقے میں پیدا ہوئے جو ملک پاکستان میں مختلف حکومتی اداروں میں اعلیٰ منصب پر فائز رہیں ابتدائی دور سے یہاں کے لوگ زراعت اور معدنی دولت سے وابستہ رہے اور معاشی طور پر بلتستان کے دیگر اضلاع کے نسبت مضبوط رہیں ہیں یہاں کے اعلی شخصیت کے حامل سیاسی لیڈران خوب ایک دوسرے پر تنقید بھی کرتے ہیں اور سیاسی بیان بازی سے بھی نہیں کتراتے ہر سیاسی رہنماوں کیساتھ منسلک عوامی طبقے اپنی پارٹیوں پر جان نچھاور کرنے سے کبھی نہیں گھبرائیں ،مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں کی باسیوں نے اب تک اپنے آپ پر اور اپنے محروم علاقے کی ترقی پر غور نہیں کیں اگر کچھ غور ہوئے ہیں تو صرف اپنی ذاتی مفادات اور خاندانی فائدے پر جو کہ اس قدرت کے نعمتوں سے مالا مال خطے کے لیے کسی زہر سے کم نہیں ۔ ویسے تو گلگت بلتستان کو جغرافیائی لحاظ سے دنیا بھر میں ایک خاص اہمیت حاصل ہیں مگر دنیاے سیاحت اور کوہ پیمائی کےلیے بلتستان کے نوازیدہ ضلع، شگر کی الگ اہمیت ہیں جو کہ اس علاقے میں موجود بلند و بالا برفانی چوٹیاں جیسے کے ۔ٹو ،بروپیک ، بیافو گلیشیر غنڈوگرو کے علاؤہ دیگر کئی اونچے پہاڑوں کی بدولت ہیں جس سے سر کرنا دنیائے کوہ پیمائی کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں خون جما دینے والے سفید پوش پہاڑوں کے علاؤہ قدرت نے گرم چشموں کے صاف شفاف اور شفاے مرض سے بھرپور چشموں سے اس علاقے کو نوازا گیا ہے ساتھ ہی اونچے پہاڑوں کے دامن سے گزرتے دریاکے کنارے سونے کے چپے زخائیر کسی دن اس علاقے کی مستقبل سنواریں گا قیمتی پتھروں کی بات کریں تو یہاں کی قیمتی پتھروں کے ذخائر پر بھی دنیائے صنعت کی نظریں مرکوز ہیں ۔ مگر ایک ہم ہیں جو اپنی ذاتی سیاسی مفاد پرستی سے ایکدوسرے کے گریباں پکڑے ہوئے ہیں ۔ یہاں کی سیاسی رہنماوں کے کمال دیکھیں دس سے پندرہ سالوں میں اب تک اس ضلع کے 200 کلومیٹر طویل سڑک میں سے بمشکل 30 سے 40 کلومیٹر تک کی روڈ اب تک پکی ہو چکی ہیں اس میں آدھے سے زیادہ بننے سے پہلے ناقص تعمیراتی عمل کی وجہ سے گاڑیوں کے پہیوں کے ساتھ ایک رگڑ سے کھنڈر ہو چکی ہیں ۔سکرود سے اسکولی تک کا راستہ ہو یا ارندو تک کا دونوں سیاحتی مقامات تک رسائی کا آسان اور اہم ذریعہ ہے انہیں روڈز سے کے ٹو اور پروپیک جیسے اہم چوٹیاں تک رسائی ممکن ہے مگر افسوس ہے کہ ہر سال کوئی نہ کوئی انہی راستوں کے تنگی اور کچے ہونے سے قیمتی جانیں گنوا بٹھتےہیں باوجود اس کے کہ اسی روڈ کے آخری سرے پر پاک فوج کے دستے کا ایک اہم یونٹ بھی قیام ہے روڈ کا ناقص اور ناپیدار ہونا قابل مذمت اور حکومتی حکام کےلیے باعث شرمندگی ہے دوسری طرف انہیں سڑکوں پر رابط پلوں کی بات کریں تو کہی پر پلوں کی نام ونشان مٹ چکی ہیں ،کہی جو رسیوں کے سہارے لٹکے ہوئے ہیں ان پر سے گزرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہیں سیاح آکر واپس لوٹ جاتے ہیں مگر یہاں کی رابط سڑکوں کی خستہ خالی سے ضرور ہماری حکام کی مذمت کرکے جاتے ہیں اور حیرت بھی کر جاتے ہیں ۔ اس علاقے میں رہنے والے ہر جوان ،بزرگ ،ماں بہنیں غرض ہر طبقے کے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ آیا اس میں ہماری کتنی غفلت ہیں کیا ہمیں مذکورہ مسلے کے علاؤہ دوسری بھی بنیادی سہولیات مل رہی ہیں کیا ہم اپنی حکومت سے اپنا حق لے رہے ہیں یا صرف موروثی اور شیطانی سیاست کو لیکر وہی شخصی غلامی میں مصروف ہیں جو صرف اپنی زات کے لیے کر رہے ہو اور علاقے کے بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہےہو، ضروری ہیں اس علاقے میں رہنے والے باسیوں کو ہر ممکن ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر علاقے کے لیے سوچیں کرپٹ اور بے ایمان لوگوں کے ہاتھوں علاقے کے بھاگ ڈور دینے سے روکیں اپنے ضمیر کا آزادانہ خود فیصلہ کریں قابل باصلاحیت اور پڑھے لکھے لوگوں کو چنے سیاسی چبقلیش اور موروثی سیاست کا خاتمہ کرکے اس پسماندہ علاقے کے نظام کو ایک لائق قابل اعتماد اور مخلص نمائندے کے ہاتھوں سپرد کرکے علاقے کے ترقی کا ان سے مکمل عہد لیں انشاللہ وہ وقت دور نہیں ھونگے کہ ہم بھی ترقی کے فہرست میں اول میں کھڑے ہونگے ۔

تحریر : شجاعت علی شگری

About TNN-SKARDU

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*