تازہ ترین

اخباری خبروں پر ایکشن کیوں نہیں ہوتا؟

پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام الناس کو درپیش مسائل ، معاشرتی ناانصافی، عوامی حق تلفی ، عوامی ردعمل ، حکومتی اداروں و اھلکاروں پہ عوام کا اعتماد، حکومتی عہدیداروں اور اداروں کا عوام کیساتھ سلوک ، قانون کی بالادستی ، رائج الوقت قوانین پر عمل اور ان پر ردعمل ـ وغیرہ وغیرہ بذیعہ اخبارات، حکومت اور عوام کے سامنے لیکر آئےـحکومتِ وقت کا فرض بنتاھے کہ وہ جہاں جہاں عوام کو مشکلات درپیش ھیں انکا ازالہ کرے ، عوامی حقوق کا تحفظ کرے اور انکے جان ومال کا ذمہ دار بنے ـ جہاں حکومتی رٹ چیلنج ھوتا ھے وھاں حکومت اپنی رٹ سختی سے قائم کرے ـجہاں کوئی حکومتی اہلکار، اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے یا اپنے ذاتی مفادات میں استعمال کرتا ھےاسکو روکے، اگر کوئی سرکاری آفیسر، کارِ سرکار میں غفلت برتتا ہے تو اس کو ٹوکے ـمگر اخباری بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو بات کچھ اور نکلتی ہے ـ روزانہ کی بنیاد پر شائع ھونے والے عوامی مسائل کو کوئی خاطر میں نہیں لاتا ـ عوام کیساتھ ھونےوالی ناانصافیوں کیلئے کوئی مسیحا نہیں بنتا ـ عوام اپنے ساتھ ھونےوالی ناانصافیوں کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے لیکن انصاف کے جنازے نکالنے والوں کو اسکا احساس تک نہیں ھوتاـ عوام گواہ ھیں کہ انکے مسائل کو کسی نے دیکھا تک نہیں ـ کہیں ایسا تو نہیں تو انتظامیہ اور حکومتِ وقت ، اخبارات کو صرف تجارت کا وسیلہ سمجھ کر نظرانداز کرتی ھو ؛کہیں ایسا تو نہیں کہ اخبارات دفتروں سے مایوس ھوکر سیدھے تندور کا رخ کرتے ھوں اور روٹیوں سے لپٹ کر انکو گرم کرکے عوامی خدمت میں مصروف ھوں ـ یا اخبارات کا رابطہ صرف پکوڑے والوں سے رہ گئے ھوں ، یا گفٹ پیک کیساتھ اخبارات کا تعلق رہ گیا ھو ـ انکا مقصد دفاتر میں دسترخوان کی جگہ اخبار بچھاو والا نہ رہ گیا ھو ـ اگر اخبارات کے یہیں مقاصد رہ گئے ہیں تو جو سلسلہ چل رھا ھے وہ ہی درست ھے ـ اگر ایسا نہیں ھے تو حکومت اور عوام کے درمیان اپروچ کا جو اخباری وسیلہ ہے اس پہ عملدر آمد ھونا چاہئے ـ خبر کی صداقت پرکھ کر اس پہ ایکشن ہونا چاہیے آخر حکومتی خزانوں پر بوجھ ملازمین کے فرائض کیا ہیں ـ جب وہ تنخواہ وقت سے پہلے لے لیتے ہیں تو انکا فرض ھے کہ وہ عوامی کام وقت پہ تو کریں ـ غریب عوام کا کیا قصور ہے جوانکو نظرانداز کردیا جاتا ھےـ انہی غریبوں کیوجہ سے سرکاری لوگ امیر ھورھے ھیں ـ انکا اتنا حق بنتا ھے کہ سرکار انکو ہر فیلڈ میں ریلیف دے ـ اگر علاقے میں دوائیاں دو نمبر ھیں تو انتظامیہ کس مرض کی دوا ہے، اگر دوکاندار من مانیاں کرتےھیں تو چیک اینڈ بیلنس کیوں نہیں ـ ھوٹل مالکان مضر صحت کھانا دےرھے ھیں تو حکومتی دباو کدھر کھسک جاتا ھے ـ یہ تمام باتیں بار بار اخبارات کی زینت بن چکی ھیں مگر افسوس کہ کوئی پوچھنے والا نہیں ، کوئی ایکشن لینا والا نہیں ـمگر اخبارات پھر بھی ہر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہینگےـ عوام کو انکے حقوق عوامی دہلیز پہ دلانے کا ہمہ وقت کوشش جاری رکھیں گے ـ شاید کوئی ایسا بھی آئیگا کہ عوامی آواز اٹھتے ھی انکے غم کا مداوا کرنے پہنچ جائے ـ ہر ظلم کے خلاف ڈٹ جائے اور فرض شناسی کا چوغہ اوڑھ کر ظالموں کو سبق سکھادے ـ عوام کو اس مسیحا کا ہمیشہ سے انتظار رہیگا ـ
تحریر: ضرب قلم۔۔ عباداللہ شاہ

About TNN-SKARDU

One comment

  1. شکور خان ایڈووکیٹ

    عبداللہ شاہ صاحب!
    گلگت بلتستان سے شائع ہونے والے اخبارات عوام کے نہیں حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں۔ وہی خبر نما مواد شائع ہوتا ہے جس کی منظوری پاکستانی اہلکار دے۔ وہ وقت دور نہیں جب سوشل میڈیا مکمل ان نام نہاد اخبارات کی جگہ لے گا۔
    جہاں تک عوام کے ساتھ ناانصافی کا تعلق ہے تو گلگت بلتستان کے درجنوں بے گناہوں پر دہشتگردی کے مقدمات قائم کرکے جیلوں میں مقید کئے گئے ہیں کیا اخبارات نےان کی خبر شائع کی؟ ان اخبارات کے نزدیک وہی سچ ہے جسے پاکستانی کارندے پسند کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*