تازہ ترین

میڈیکل اسپیشلسٹ کا فقدان، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گلگت خواتین کیلئے موت کا کنواں بنتی جارہی ہے۔

گلگت (ڈسٹرک رپورٹر) گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گلگت میں میں زچگی کے دوران بے ہوشی دینے والے ڈاکٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایک خاتون زندگی کی جنگ ہار گئی۔ اس واقعے پر لواحقین نے اُسی وقت مقامی صحافیوں کے سامنے احتجاج کیا لیکن اس واقعے کے بعد حکومت نے اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کیلئے معاملے طبعی موت قرار دینے کی کوششیں شروع کردی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اُس خاتون کی موت ڈاکٹر کی عدم موجودگی سے نہیں ہوئی بلکہ خداوندی کے تحت ہوئی ہے۔حکومت نے دعوی کیا ہے کہاس وقت ہسپتال میں گائینی کے تین ڈاکٹر فرائض انجام دے رہی ہےاور متاثرہ خاتون کا علاج باقاعدہ سینئر کنسلٹنٹ موجود ہے لیکن مذکورہ مریضہ پہلے ہی کومہ میں جا چکی تھیں اور اس کے بعد آپریشن کا مرحلہ آیا۔ یعنی مریضہ زچگی کے دوران اور بعد میں پیداہونے والے پیچیدگیوں کو شکارہوو چکی تھیں۔ دوسری طرف پی ایم اے کے صدر کا کہناتھا کہ بے ہوشی کا ایک ڈاکٹر تھا لیکن سکردو تبادلہ کیا گیا ہے جبکہ ایک ریٹائرڈ ہو گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس معاملے میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ذمہ داران کو سزا دینے کے بجائے محکمہ اطلاعات کے ذریعے اس حوالے سے مسلسل جھوٹ بولا جارہا ہے کیونکہ مریض کے لواحقین میڈیا سامنے کہہ چُکے ہیں کہ ہسپتال میں بے ہوشی کا ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے مریضہ لقمہ اجل کو لبیک کہہ گئی۔ ہمارے نمائندے نے ہسپتال کے گرد موجود کچھ لوگوں سے اس معاملے میں جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس ہسپتال میں چند روز قبل بھی ایک خاتون کو زچگی کیلئے ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ہستپال انتظامیہ ایڈمٹ کرنے سے انکار کیا تھا۔ لیکن مریضہ کو کسی کلینک میںلے جاکر ڈاکٹر سے لکھوا کر واپس لایا تو ہسپتال کے دروازے پر ہی بچے کی ولادت ہوئی تھی بروقت لیڈی ڈاکٹر کو بلانے میں تاخیر سے ایک معصوم زندگی پیدا ہوتے ہی موت کی آغوش میں چلی گئی۔ ہسپتال میں مریضوںکی عیادت کیلئے موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک واقعہ ہے جو میڈیا پر آیا تو شورشرابا ہوا ورنہ یہاں تو اس کے پریشانی معمول کی بات ہے لیکن کوئی سُننے والا نہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اکثر ڈاکٹر ڈیوٹی کے دوران بھی اپنے کلینک پر موجود ہوتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*