تازہ ترین

گلگت بلتستان میں بڑھتے ہوئے صحت کے مسائل ۔۔

گلگت بلتستان کے لوگ خوبصورتی کے علاوہ کسی دور میں تازگی توانائی صحت اور تندرستی سے بھرپور زندگی گزارنے کی مثال ہوا کرتے تھے ـ وہاں کے باسی اپنی سادہ مگر غذائیت سے بھرپور خوراک اور جفا کش طرز زندگی کی بدولت بے شمار بیماریوں سے محفوظ رہنے میں کامیاب تھے ـ
آج حالت یکسر برعکس ہے ـ اس وقت گلگت بلتستان کے ہر پانچ میں سے تین بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جس سے ان کی قوت مدافعت ، ذہنی نشو نما اور قد کاٹھ متاثر ہورہی ہے ـ جبکہ خواتین اور بچیوں میں خون کی کمی ایک اور چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہے ـ
ان سب سے بڑھ کر اس وقت بلتستان میں ہیپاٹائیٹس اور کینسر کے مریضوں میں بے حد اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ـ اس حوالے سے کوئی باوثوق اعداد شمار ہمارے پاس موجود نہیں ہے مگر ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ” پمز ہسپتال اسلام آباد ” میں آنے والے مریضوں کی بہت بڑی تعداد ہیپاٹائیٹس جبکہ شوکت خانم اور آغاخان ہسپتال کراچی ، این آئی بی ڈی کراچی اور انڈس ہسپتال کراچی میں آنے والے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ـ
اس خطے میں اب تک اس ضمن میں کوئی خاطر خواہ اسٹڈی یا ریسرچ کے نہ ہونے کی وجہ سے اعداد و شمار اور ان کی بنیادی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مبینہ طور پر ان جان لیوا بیماریوں کی بنیادی وجوہات میں سے ہیں ـ
1- غذائی قلت ( جس کی بنیادی وجہ ” نمکین چائے ” کا بےحد استعمال ) ہے ـ چونکہ بلتستان میں اکثر بچے صبح شام اسی چائے اور روٹی پہ گزارہ کررہے ہوتے ہیں اور یہ مشروب ہر کھانےکا ضروری جز سمجھا جاتا رہا ہے ـ
2 – کوکنگ آئل ( غیر معیاری اور hydrogenated کوکنگ آئل کا بے جا استعمال )
3 – فارمی چکن ( جس میں steroid کی بہت بڑی مقدار پائی جاتی ہے اور یہ گردوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے ـ اس کے علاوہ چکن میں Arsenic کی بھی کافی مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ کینسر کی بنیادی وجہ بن سکتی ہے )
4 – سفید آٹا [ میدہ] ( جسے ریفائن کرنے کے لئے chlorine کے ساتھ بلیچ کیا جاتا ہے اور اس آٹے میں Carbohydrate بھی ذیادہ مقدار میں موجود ہوتی جس سے خواتین میں بریسٹ کینسر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے )
5 – چینی اور اس سے بنے اشیاء ( 2006 میں چھپنے والے American Society For Clinical Nutritional Journal کے ایک رپورٹ کے مطابق چینی اور اس سے بنے دیگر اشیاء کے ذیادہ استعمال سے Pancreatic Cancer ( لبلبہ ) کا کینسر ہوسکتا ہے)
6 – مصالحہ جات ( مصالحوں میں رنگ اور لکڑی کے برادوں کی ملاوٹ عام ہے اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی چیک بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اسی زہریلی اشیاء کا کروبار عروج پہ ہے )
7 – کھلے پاپڑ ( خاص طور پر رمضان میں افطاری کا ضروری جز سمجھا جاتا ہے ـ اس کے علاوہ پرچون کی دکانوں میں رنگ برنگے پاپڑ اور چپس کی بھرمار ہے ـ ان مصنوعات میں Acrylamide ہوتا ہے جو کہ سیگریٹ کے تمباکو میں بھی پایا جاتا ہے ـ International Journal Of Cancer کے مطابق Acrylamide سے Ovarian, Breast or Prostate کینسر ہونے کا خدشہ رہتا ہے)
8 – ڈینٹل ٹیکنیشن ( دانتوں کے نیم حکیم ) ان کے پاس اوزاروں کا ایک ہی سیٹ موجود ہوتا ہے جس سے یہ مختلف مریضوں کے دانت کا اعلاج کرتے ہیں جس سے باآسانی بیماریاں منتقل ہوتی ہیں ـ جبکہ کان اور ناک چھدوانے کے آلات ان بیماریوں کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ـ
9 – چشمے کا پانی ( چونکہ وہ خطہ منرل اور قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے اور ان گنت جگہوں پہ چشمے کا پانی استعمال کیا جاتا ہے ـ اس پانی میں Sulphur, Lead, Magnisium اور Flouride سمیت دیگر منرلز کی مقدار بہت ذیادہ ہوتی ہے ـ چشمے کے پانی کو اس کے پھوٹنے کی جگہ سے حاصل کرنے کے بجائے کچھ فاصلے سے حاصل کر کے پیا جانا چاہئے مگر وہاں اس کو اسی مقام سے پینے کے لئے بھرا جاتا ہے جہاں سے نکل رہا ہوتا ہے )
10 – ادویات کا غلط اور بے جا استعمال ( ڈاکٹرز اور بنیادی صحت کے مراکز کی کمی کے علاوہ صحت عامہ کے شعور کی کمی کی وجہ سے لوگ ادویات کا بےحد غلط استعمال کرتے آرہے ہیں جس سے گردوں کے متاثر ہونے کی شکایات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ـ

11 – اس خطے کے آب و ہوا کے مطابق کھانے اور پینے کے بجائے جدید طرز زندگی کے چکر میں بازاری اور غیر معیاری اشیاء کے استعمال سے آئے روز بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ـ

تحریر : ساجد حسین سید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*