تازہ ترین

آ ج کے والدین اور اولاد۔

بچے نے امی سے کہا امی دس روپے دے دیں ۔ایک لڑکے کی مدد کرنی ہے ۔ماں : کس کی مدد کرنی ہے ؟ بچہ : وہ گلی میں کھڑا آئس کریم بیچ رہا ہے ۔
جی ہاں قارئین آپ سبی سوچ رہے ہونگے کہ یہ کیا لکھ ڈالا بچوں والا لطیفے کو لکھ کر کیا بتانا چاہ رہا ہے تواس گھما گھمی اور دو وقت کی روٹی کےچکر میں آج کے اس ایٹمی ہتھیاروں کے دور میں خوفزدہ انسان کو ہنسنے کا وقت ہی درکار نہیں ،سوچا کہ قارئین کے رخساروں پر ایک حسین مسکراہٹ لادوں اور ساتھ ہی ہمارے معاشرے کے ایک مسلے کو آپ حضرات کی نظر کروں ۔اللہ تعالی انسان کو معصوم خلق کرتا ہے ہر گناہوں اور برائیوں سے پاک ایک گوشت کے ڈھیر کو اللہ تعالیٰ ماں باپ کے وسیلے سے رزق عطا کرتاہے ہوش سنبھالتا ہے ماما،پاپا کی آوازیں لگانے لگتا ہے ماں باپ اور اردگرد کی ماحول سے سیکھنے لگتے ہیں وہی باتیں ،،عادتیں اور وہی اخلاقی معیار کو اپنے اندر جذب کرتاہے۔ انسان کی ابتدائی اوقات جس سے بچپین کہا جاتاہے اس مرحلے میں بچہ بہت کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے اردگرد کی باتیں چاہیں وہ جھوٹ پر مبنی ہو یا معاشرے کی من گھڑت قصے کہانیاں،لطیفے ہو یا بچے کو خوف ذدہ کرنے کی انداز ،ناپختہ بچے کے زہین پر اچھا خاصا اثر چھوڑ دیتاہے ایک ایسا اثر جو بعد میں بڑے ہو کر بچے کی ایک مکمل عادت بن جاتی ہے جو بری بھی ہو سکتی ہے اور اچھا بھی ہو سکتا ہے یہ آپ اور میری تربیت اور گھریلو ماحول پر منحصر ہے کہ آ پ بچے کے دماغ پر کیا تاثرات دینا چاہتے ہیں ۔ یہ عام سی بات ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہم کھل کر نظر انداز کرتے ہیں ،کسی تکلیف کے باعث رو رہا ہو یا اپنی زد سے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ فورا اس سے چپ کرانے کے مختلف انداز استعمال کریں اس میں ہماری سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ بچے کو خوف یا ڈر سے چپ کرانا ہے کسی ڈروانی جانور یا جن بت کا قصہ سناکر ننھے معصوموں کو خاموش کراتے ہیں یہاں تک کہ اجکل کی مائیں موبائل فون میں ڈراؤنی موئز دیکھا کر بچوں کو ڈراتیں ہیں تاکہ خود کو سکون مل سکے مگر انکا یہ منفی رویہ ایک نئے نشوونما پانے والے پر کیا اثر پڑتا ہے اس بات سے ایک پڑھی لکھی ماں اچھی طرح واقف ہے ننھی کلیوں کے ذہنوں پر اس طرح کے خوف اور ڈر بتانے سے کیا کس قسم کے زہر بنتا ہے اس سے بھی ایک تعلیم یافتہ ماں باپ اچھی طرح آگاہ ہیں اس کے باوجود یہ طرز ہر کوئی اپناتے ہیں۔ ابتدا میں بچے کی کہی ایک جھوٹی بات یا ایک معمولی سی لاپرواہی والدین خوشی سے نظر انداز کرتے ہیں بلکہ یہاں تک اس کی شریر رویے اور جھوٹ پر داد دیتے ہیں بجائے اس کے کہ بچے کو اچھے اور برے کی فرق کا وضاحت کریں یہاں پر والدین کی ستی اور کاہلی آجاتیں ہیں بعد میں یہی لاپرواہی بچے کا جھوٹا اور ناقص ہونے کا سبب بنتاہے ہر گھر میں ایسا ہوتا ہے بچہ کئی طرح کے بہانے بناتے ہیں کبھی سکول میں پنسل کاپی کا تو کبھی سکول جرمانے کا مگر حقیقت کچھ اور ہوتا ہے یہ صرف ماں باپ سے پیسے نکالنے کا ایک جھوٹ ہوتا ہے مگر والدین اس بات سے نا آشنا ہوتے ہیں کہ اس کا بچہ کیا کر رہا ہے آج کل کے والدین کو مہینے میں بھی ایک دن اپنے بچوں کے لیے نہیں نکال پاتے بچوں کی صیح غلط پرکھنے کا بھی وقت نہیں ہوتا جس سے بچوں کو فری ہینڈ مل جاتا ہے طرح طرح کے جھوٹ اور بہانے سے بچپن میں اولادیں اپنے والدین سے اپنی ضروریات پوری کرتیں ہیں غلط صحبتوں ،غلط دوستوں اور غلط سرگرمیوں کا گھر والوں کو معلوم نہیں ہوتا وقت کیساتھ ساتھ جب بچہ جوانی کے دہلیز پر پہنچتا ہے تو وہ والدین کو خاطر خواہ میں نہیں لاتے ان کی نصیحتیں ،ان کی روک ٹھوک پر ایک کان نہیں جونکتا وجہ نافرمان اور بدمعاشی کے طرز کو اپناتے ہیں یہاں تک کی اولاد ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے پھر والدین سارہ قصور اولاد کے کے جھولی میں ڈال دیتے ہیں اور خود کو فرشتہ ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں حالانکہ ان سب کے پیچھے ان کی اپنی عدم توجہی اور دلچسپی ہیں ، ان کے ہی تربیت کی فقدان ہیں جن کا رونا رو ہے ہوتے ہیں جس سے سبنھالنا بعد میں مشکل ہوتا ہے۔ معروف مذہبی عالم دین مولانا طارق جمیل صاحب اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں “جب میں گیارہ سال کا تھا اس وقت میرے ماں باپ نے مجھے لاہور کے گورئمنٹ سینٹر ماڈل سکول کے ہاسٹل میں بیھجا تین سال تک ماں باپ کی جدائی میں روتا رہا چوتھے سال آنسو ایسے خشک ہوئے کہ موت تک نہ ماں سے پیار کرسکا نہ باپ سے ،دینی تعلیم سے وابستگی کے بعد عزت ملی ،خدمت کی ،میرے باپ نے میرے گود میں جان دی لیکن میں دیانتداری سے کہہ رہا ہوں کہ میں ماں باپ کو پیار نہیں دے سکا کیونکہ پیار کی شمع انھوں نے بجھا دی تھی جب مجھے ان کی گود کی ضرورت تھی تو انھوں نے مجھے ہاسٹل میں بیھج دیا میری محبت کے سارے چراغ بجھا دیں جنھیں میں کوشش کے باوجود روشن نہیں کراسکا”طارق جمیل صاحب نے ایک اہم پیغام دیا ہے کہ والدین اپنے اولاد کو وقت دیں چار سال کی عمر میں ہاسٹل بیھج کر غیروں کے ہاتھوں پرورش کرنے کے بجائے خود سے ان کی پرورش کرو تاکہ اولاد کی الفت آپ کے ساتھ رہیں ۔کیونکہ سات سال تک تو اسلام نے بچوں پر نماز تک فرض نہیں کی ہیں اور سات سال تک ماں کی گود کو بچوں کے لیے سب سے بہترین درسگاہ قرار دیا ہے ۔ ایک اسی عنوان سے متعلق ایک واقعہ فیصل آباد کے میاں بیوی کیساتھ پیش آیا دونوں استاد تھے اور سکول میں پڑھاتے تھے جس سکول میں بیوی پڑھاتی تھی اسی اسکول میں ان کا بچہ پڑھتا تھا ایک دن گھر پر پیپر چیک کرتے کرتے بیوی رو پڑی میاں نے پوچھا کیوں رو رہی ہو بیوی نے پیپر آگے کردی میاں نے پیپر دیکھا تو سوال یہ لکھا ہوا تھا کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں تو اس بچے نے لکھا تھا کہ میں ایک سمارٹ فون بننا چاہتا ہوں کہ میں جب گھر آتا ہو تو میری ماں میرے بجائے سمارٹ فون پر ہوتی ہے میرا بابا میرے بجائے سمارٹ فون پر ہوتا ہے میں جب بات کرتا ہوں تو نہ باپ جواب دیتا ہے اور نہ ہی ماں جواب دیتی ہے اپنے اپنے موبائل پر لگے ہوتے ہیں تو میں بہت مایوس ہوتا ہوں تو کاش میں فون ہوتا میاں کہتا ہے اس میں رونے کی کیا بات ہے تو بیوی جواب دیتی ہیں یہ ہمارے ہی بچے کا پیپر ہے ۔یہ ہر گھر کی حقیقت ہے کہ ہم سب ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے آج کل اسی موبایل فون کی وجہ سے کوسوں دور ہیں اس کی استعمال کو محدود کرنے کی ضرورت ہیں ۔یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ جس طرح ماں باپ کی عزت واحترام اولاد پر فرض ہے اسی طرح والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کی عزت اور احترام کریں ان کے جائز مطالبات پر ٹوکنے کے بجائے اس سے سن کر اس کا مناسب حل نکالیں نہ کہ بے عزتی اور شرمندہ کریں اولاد کو پیسے سے زیادہ والدین کی طرف سے حوصلہ و عزت ضروری ہیں کڑوڑں روپے دیں مگر آپ کی طرف سے اولاد کے لیے ایک شب پیار کا نہ نکلے یا ہر بھرے محفل میں اس کی بے وجہ بے عزتی کرتے رہے تو اولاد کبھی والدین سے خوش نہیں رہ پائیں گے یہاں تک کہ مرحلہ بغاوت تک اتر آئے گا اور والدین اولاد جیسے نعمت اور رحمت کے ہوتے ہوئے اس سے محروم رہ جائیں گے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اگر ہم نے اپنے آئندہ کے معاشرے میں نئی نسل کو بااخلاق ،مہذب اور پر امن دیکھنے ہیں تو اولاد کو وقت دو انہیں ہر برے و اچھے باتوں اور کاموں کے درمیان فرق کو بتائیں ان کی ابتدائی تربیت اسلام کےپاک علوم سےکریں انہیں اخلاقیات سیکھائیں اور ایک سچے مسلمان کی طرح تیار کریں ۔

تحریر: شجاع شگری

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*