تازہ ترین

ضلع دیامر کے سب ڈویژن تانگیر کے میڈیکل سٹورپر جعلی ادویات کی بھرمار،لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

چلاس(رپورٹ؛عباداللہ شا ہ )ا نسانی زندگی کی قیمت جعلی ادویات سے لگانا اور پھر زندگی کےبچاو کا جھانسہ دیکر ،پیسہ کمانا، تانگیر میڈیکل سٹورز والوں کا مشغلہ بن گیا ھے۔ علاقے میں جگہ جگہ نیم حکیم اور عطائی ڈاکٹرز کی کثرت ھےجو غریبوں کا خون بلا حکومتی ڈر اور خوف کے پیتے ھیں ۔ معاشرے میں جہاں دوسرے جرائم اور برائیوں کی کثرت ھے وھاں حکومتی رٹ ،ادویات کی حدتک بھی غائب نظر آتی ھے۔۔ اور یہ بات انتہائی افسوسناک حد تک بڑھ گئی ھے کہ جعلی ادویات ھی مریضوں کی زندگی کا واحدحل بن کر رہ گیا ھے۔چونکہ علاقے میں ڈرگ کنٹرولر اور متعلقہ محکمےکےدوسرے اھلکاران کی رسائی تک ممکن نہیں۔ اور نہ وہ اپنے فرائض سے وابستگی رکھتےھیں۔ اس لئے تانگیر میں ڈرگ کنٹرول اور چیک کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں، جس سبب تانگیر سٹورز کےمالکان سوات سے غیر وارنٹی شدہ اور جعلی ادویات کم قیمت پر خرید کرعلاقےمیں انتہائ مہنگےداموں بیچتے ھیں ۔ چھان بین اور معلومات کے حصول کے نتیجےمیں یہ بات سامنےآئی ھےکہ زیادہ ترادویات پیکٹس میں آٹے کی گولیوں کےمترادف ھیں جو کہ میڈیکل سٹورز والوں کےلئے پیسہ کمانےکا واحد ذریعہ ہیں اور میڈیکل سٹورز میں غیر تربیت یافتہ افراد کی موجودگی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ھے ۔سب جانتے ھیں کہ جعلی ادویات کا بیمار اور بیماری کےتدارک کےلئے کوئ فائدہ نہیں ھوتا۔۔ لیکن جس علاقے میں اصلی ادویات سرے سے موجود نہ ھوں وھاں مرتا کیا نہ کرتا۔ غریب عوام جو شہروں اور بڑی ھسپتالوں کا رخ کرنا، غربت کےھاتھوں مجبورھیں۔ انکی مجبوری میڈیکل سٹورز والوں کی عیاشی بن گئی ھے۔ اور بیماری سے متاثرہ عوام کو جعلی ادویات ، ڈوبتے کو تنکا کا سہارا، کی روپ میں ملتی ھیں ۔ اگر حکومت اور محکمہ صحت اس طرف توجہ نہیں دیتی ھےتو آئےروزغریبوں کی زندگی سے کھیلنے والوں کا راج جگہ جگہ ھوگا جو اصلی ادویات سے نابلد اور جعلی ادویات بیچنے میں یدطولیٰ رکھتےھیں۔عوامی حلقوں نے نہ صرف محکمہ صحت کے ذمہ داروں سےبلکہ حکومت وقت سے بھی پرزور مطالبہ کیاھےکہ عوامی زندگی سے کھیلنےوالے میڈیکل سٹور مالکان اور جعلی ادویات رکھنےوالوں کو فوری گرفت میں لیکر قرارواقعی سزادے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*