تازہ ترین

پاکستان میں حقوق نسواں ۔

دنیا کے مختلف معاشروں میں بنیاری خرابی کی وجہ عورت اور مرد کے درمیان تخلیقی طور پر امتیاز ہیں ۔اسلام سے پہلے قدیم یونانی معاشرے میں عورت کی حیثیت بے بس غلام کی سی تھی اور مرد کو ہر اعتبار سے فوقیت حاصل تھی بلکہ بداخلاقی کی اس فضامیں عورت صرف ہوس کا نشانہ تھی نکاح سے بلکل بے نیازی تھی اور نظریاتی طور پر عورت کو تمام مصائب کی جڑ قرار دیا جاتا تھا یہودیت اور عیسایت میں بھی عورت کا مقام کچھ یہی تھا یہودی عورت کو مکار اور نسل انسانی کی دشمن سمجھتے تھے۔مسیحیوں کے ہاں ایک مدت تک یہ بحث ہوتی رہی کہ عورت کے اندر روح بھی ہے یا نہیں اور آخر فیصلہ یہ ہوا کہ اس کے اندر روح تو ہے لیکن بڑی خبیث روح ہے، روایات اور قدیم ثقافتوں پر مبنی ہنرومت میں عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچپن میں باپ کے اختیار میں رہے ،جوانی میں شوہر کے ماتحت اور بیوہ ہونے کے بعد بیٹوں کے اختیار میں رہے اور خود مختار ہوکر کبھی نہ رہے۔ لیکن دین برحق اسلام کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی قدیم معاشروں اور مزاہب میں عورت کے متعلق پائے جانے والی تمام بے بنیاد روایات غروب ہونے شروع ہوگئے ۔دین اسلام کے اثرات نے ان معاشروں اور مذاہب کو بھی عورت کے متعلق اپنی سوچ کو بدلنے پر مجبور کر دیا۔ اسلام نے اس تخلیقی امتیاز کو مٹایا اور انسان کو بتایا کہ مرد وعورت دونوں ایک ہی اصل سے آے ہیں اس لیے پیدائشی اور بنیادی اعتبار سے کسی کو فضیلت حاصل نہیں عورت اور مرد انسانی زندگی کا لازم وملزم حصہ ہیں اور انسانی تخلیق میں دونوں کا برابر حصہ ہے۔یہ حقیقت ہے کہ عورت معاشرے کا ایک ایسا ناگزیر عنصر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ انسانی بقاء عورت ہی کی بدولت ہے جدید مغربی معاشرے میں آزادی نسواں کے بارے میں تحریکوں کا سلسلہ 28فروری 1909 میں امریکہ کے شہر نیویارک میں ہونے والے حقوق نسواں اجلاس سے ہوتا ہے جس میں اس بات پر اتفاق ہواکہ ہر سال 8 مارچ کو خواتین ڈے منایا جائے گا۔1917میں سویت یونین میں خواتین کو حق رائےدہی ملنے کے بعد 08 مارچ کو سرکاری سطح اس دن کو مناتے ہوئے ملک بھر میں عام تعطیل کی جانے لگی،اقوام متحدہ نے1975میں اس دن کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردیا، اور ہر سال 08 مارچ کو بین الاقوامی سطح پر منایا جاتا لگا سال 2018 میں اس دن کو منانے کا مقصد یہ تھا کہ دیہی اور شہری سماجی لوگ عورتوں کے زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لے آئے۔اس دن کی مناسبت سے دنیا کے کئ ممالک میں سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہیں جن میں افغانستان ، ارمینیاں، نیپال ، تاجکستان ، ویت نام وغیرہ شامل ہیں۔ چین میں 08 مارچ کو صرف خواتین کو چھٹی ہوتی ہیں۔پاکستان میں بھی اس دن کو اچھی طرح منایا جاتا ہے حقوق نسواں کے عنوان سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے سیمنار اود دیگر مختلف پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں جن میں خواتین کی اہمیت معاشرے میں ان کو درپیش مسائل اور ان مسائل کے حل پر غوروخوس کیا جاتا ہے پاکستان ایک ترقی پزیر اور اسلامی ملک ہے،ملک میں وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ہندومت اور دوسرے مذاہب سے لی گئی رسومات جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور ان کو اپناتے ہوئے خواتین کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا گیا ہے کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں میں خواتین زیادہ خودمختار ہے۔ ملک کی قومی اسمبلی میں 30فیصدکے برابر خواتین کی نمائندگی ہے۔وزارت عظمیٰ سے لیکر دیگر کئی احدوں پر خواتین فائز رہ چکی ہیں اور آج بھی کئی اہم وزارتوں اور احدوں پر خواتین طعینات ہے۔ ملک کے کئی پسماندہ علاقوں میں خواتین کو ان کی بنیادی حقوق سے دور رکھا گیا ہے ان کو تعلیم حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔ زندگی کے اہم فصلوں میں ان سے رائے نہیں لی جاتی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غیرت کے نام سے عورتوں کو زندگی سے ہاتھ دھو نا پڑھتا ہے۔ملک کے عدالتی نظام سے بروقت انصاف نہ ملنے کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اسلام نے عورت کو اپنی زندگی کےہر پہلو پر خود فیصلہ کرنے کا حق دیا ہوا ہے اسلام نے عورت کو ماں کی حیثیت سے ایک قوی شخصیت قرار دیا ہے۔ ہماری معاشرے میں خواتین پر روایات اور غیرت کے نام سےجو ظلم وجبر موجود ہے اسکا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں اور یہ رسومات ہم پر دوسرے معاشروں کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ آزادی نسواں کے بارے مغرب کا دعویٰ ایک دھوکہ ہے جو عورت کے جسمانی استعمال روح کی پامالی اور عورت کو تقدس واحترام سے محروم کرنے کے لیے بھرا گیا ہے مغربی معاشرے کا دعویٰ ہے کہ اس نے عورت کا مقام بلند کیا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ مغرب میں عورت کی تزلیل کی گئی ہے وہاں عورت کو آزادی کے نام پر داشتہ بنا دیا گیا ہے۔امریکہ کو دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے تاہم یہی وہ ملک ہے جہاں عصمت دری کے واقعات بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ہمیں اپنے ملک میں حقوق نسواں کیلیے اسلامی تعلیمات اور دنیاوی تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ یہی حقوق نسواں کی ضمانت ہے۔ مغربی معاشرے کو اپنانا مسائل کا حل نہیں بلکہ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرے ہی انسانی زندگی کو خوشحال بنانا میں مددگار ہوگا۔

تحریر: محمد عثمان حسین

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*