تازہ ترین

معیاری تعلیم اور اس پر عمل ایک خواب۔

کہا جاتا ہے کہ تعلیم اور علم انسان کو انسانیت کا سبق سکھاتا ہے۔اس لٔیے معلم اسلام ﷺنے فرمایا تھا کہ ـ ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرو۔گویا اس حدیث مبارکہ سے ہم یہ سبق اخذ کرسکتے ہیں کہ تعلیم اور علم زندگی بھر کاعمل کا نام ہے۔یعنی تعلیم کے ذریعے ہم اپنی اور دوسروںکی زندگیوں میں بہتری لینے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔پیغبر اسلام کے اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوے گلگت بلتستان کے عوام نے تعلیم پر اس قدر محنت کیا کہ جس کے نتیجے میں آج اس علاقے کو تعلیمی میدان میں ترقی یافتہ ممالک کے برابر سمجھا جاتا ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے تعلیم یافتہ افراد میں معیاری تعلیم اور اس پر عمل کہاںتک ہے؟ تعلیم یافتہ فرد دنیا اور معاشرے کے لیے ایک زندہ مثال ہوتا ہے۔تعلیم یافتہ فردکی پہچان اس کے اخلاقیات، افکار اور اس کے رہن سہن سے ہوتا ہے۔لیکن ہماری قوم کے تعلیم یافتہ افراد ان سارے صفات اور جذبات سے خالی مشینی روبوٹ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ اس عوام کو نہ اپنی حق کا پتہ ہے اورنہ اپنی فرض کا۔بلخصوص ہنزہ کے تعلیم یافتہ طبقہ اور ڈگری ہولڈرز اس معاشرے میں عذاب کا سبب بن چکے ہیں جو شراب نوشی اور نشے کے لین دین کو بطور عبادت اور پیشہ اختیار کرچکے ہیں۔ اس لعنت میں تعلیم سے وابسطہ افراد جن میں کچھ اساتذہ اور طالب علم بھی شامل ہیں۔ میرے ذہین میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس معاشرے کو سہارا دینے والے ہی اگر اس کی تباہی کا سبب بنے لگے تو اس معاشرے کا خدا ہی حافظ ہوسکتا ہے۔ آج کے معاشرے کے طالب علموں کا حال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہنزہ کے غریب اورمحنتی والدین دن رات ایک کرکے شہروں میں پڑ ھنے والے اپنے شہری بچوں کو خرچ بھجتے ہیں۔ لیکن ان شہری اولاد کو اس بات سے کو ئی تعلق نہیں کہ اُن کے والدین کس طرح کماتے ہیں اور کہاں سے کماتے ہیں۔آج ہنزہ سے تعلق رکھنے والا ہر دوسرا نوجوان نشے کے لعنت میںمبتلا ہیں۔ان تعلیم زادوں کو اپنے والدین کی کسی بھی درد کا احساس تک نہیں۔طالب علموں اور اساتذہ کرام کے بعد کچھ ذکر ہمارے تعلیمی داروں کی بھی ہو نی چاہیے جو آج صرف اُن دکانوں کی طرح کام کررہے ہیں جو صرف اپنا مال اور پروڈک بیچنا جانتے ہیں۔تعلیم کو آج کل کاروبار کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ان اداروں سے ڈگری دے کر صرف اخلاق سے خالی مشینوں کے فارغ کیا جاتا ہے، جو معاشرے کے لیے رحمت کے بجاے زحمت بن جاتے ہیں۔آج میرا یہ مطالبہ حق بجانب ہے کہ جو لوگ اس خطے کے حکمران اور خیرخواہ بن کر خواب غفلت سوئیں ہوئے ہیں، اُن کو چاہیے کہ اس خواب غفلت سے بیداد ہوکر ان اداروں پر کوئی چیک اینڈ بیلس کا نظام قائم کرے۔تاکہ ان اداروں سے ملک کے لیے معمار نکلے نہ کہ بیمار۔اور معز ز والدین سے بھی التجا ہے کہ اپنے اولاد کے ہر حرکات و افکار پرضرور نظر رکھیں، وقت کی سب سے بڑی ضرورت اپنے افکار اور اخلاقیات کو خطے اور ملک کی مفاد اور بہتری کے لیے بروئے کار لانا ہے۔ٓان ٹوٹے پھوٹے کلمات کے ساتھ رب کائنات سے دُعا ہے کہ وہ ہمارے تعلیم یافتہ افراد کو خطے کی ترقی میں ہاتھ بڑھانے کی ہمت و توفیق عطا فرمائیں۔۔امین

تحریر : وجاہت عالم

  •  
  • 76
  •  
  •  
  •  
  •  
    76
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*