تازہ ترین

دیامرانتظامیہ،صحافی اور حکومت برانڈڈ صحافی ۔۔

غالب نے سچ کہا تھا۔
غالب وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھےنوکر نہیں ہوں میں..
ڈسٹرکٹ انتظامیہ کا صحافیوں کیساتھ جانبدارانہ سلوک اور رویہ،ان تمام صحافیوں کیلئے لمحہ فکریہ ھےجو سچ کو حقیقت کے دوات میں رکھکر،اس میں حق کا قلم ڈبوتےہیں ۔ ایسےعالم میں جو بات نکلتی ہے۔وہ بات نہ صرف معاشرے کے عام افراد میں، بلکہ صحافتی میدان کے شہسواروں میں بھی اپنا مقام بنالیتی ہے۔ مگر ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو یہ بات کب گوارا؟ اور معاشرے میں حکومت برانڈڈ صحافیوں کی قلت بھی نہیں ۔۔
اس نکتےپرآکر صحافت دو گروپس میں تقسیم ھوتی ہے۔۔۔ صحافیوں کا اک گروہ حکومت نواز اور دوسرا گروہ حکومتی نظر التفات سے محروم ہوجاتاھے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ھوتی ہےکہ حقیقی صحافی حکومتی منشاء پرجھوٹے قصیدے لکھنا اور پڑھنا۔صحافتی ظابطہ اخلاق کے منافی سمجھتےہیں ۔ جبکہ حکومت نواز گروپ، بہانے بہانےسے، نہ صرف حکومتی اراکین کے کالے کرتوتوں پہ خوشامد کا کلغی سجاتےہیں بلکہ ھمہ وقت جی حضوری کا بھی ثبوت پیش کرتےہیں ۔ اب جبکہ ھم نےخود کو صحافی گروپ کہا نہ کہ حکومت بانڈڈ صحافی ۔۔۔ یہاں پہ ذکر کرنا لازمی ھوا کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ سرکار پیڈ صحافیوں پہ نوازشات کی کیسی کیسی برسات برساتی ہے ۔ جب بھی ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے صحافیوں کی لسٹ مانگی جاتی ہے۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ حکومت برانڈڈ صحافیوں کا لسٹ آگے کرتی ہے۔۔ چاہے وہ واپڈا کیطرف سے صحافیوں کو سیرکرانےکی لسٹ ھی کیوں نہ ہو۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحافی کو ھر حکومتی اشارے پر لبیک کہنا چاہیئے ؟ اگر جواب ہاں میں ہےتو صحافت کی آزادی سوالیہ نشان ھے۔ اگر جواب نا میں ھو تو حکومتی نوازشات کی برسات بند ۔
مگر یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ صحافی وہ ھوتا ہےجو تمام انعامات و نوازشات۔ جن سے اسکے قلم میں لالچ کا زلزلہ برپا ھوجاتاھےکو پاؤں کی نوک پہ رکھ کے ہوا میں اڑادے ۔۔ اپنی خودی کی حفاظت کرے اور قلم کو دکان سے خریدے مگر دفتروں میں نہ بیچے ۔۔۔ اک صحافی کے لئے اس سے اعليٰ مقام اور کوئ ھو نہیں سکتا کہ وہ سچ کی پرچار کرے۔۔ سچ کو سچ کہنے کی جرات رکھےاور ناحق کو ڈنکےکی چوٹ پہ ناحق کہے۔
انتہائی معذرت کے ساتھ کہونگا کہ صحافت کا سر کےٹو جتنا اونچا ھے اسکو دفتری درباریوں کے مقام پہ نہ لایا جائے۔

تحریر :  عباداللہ شاہ

ضرب قلم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*